سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 431 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 431

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 431 حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ اور کسی کے دو بال آئے۔پھر حضور ﷺ نے ابوطلحہ کو یاد فر مایا اور دوسرے نصف سر کے سارے بال ان کو عطا فرمائے۔ابو طلحہ کے گھر میں یہ بال ام سلیم نے شیشی میں محفوظ کر کے رکھے ہوئے تھے جو لمبا عرصہ محفوظ رہے اور پورا گھرانہ اس سے برکت حاصل کرتا رہا۔(11) حضرت ابوطلحہ نے رسول اللہ کا ایک پیالہ بھی تبر کا سنبھال کے رکھا ہوا تھا۔جوشکستہ ہونے کے بعد لوہے کی تار سے جڑا تھا۔حضرت انس نے ایک دفعہ یہ خواہش ظاہر کی کہ لوہے کے تار کی بجائے سونے یا چاندی کے تار سے اس پیالے کا حلقہ باندھا جائے۔حضرت ابوطلحہ نے یہ بھی گوارا نہ کیا اور انس کو کہہ کر روک دیا کہ نبی کریم ﷺ کی بنائی ہوئی چیز میں ہر گز کوئی تبدیلی نہیں کرنی۔گویا اس متبرک پیالے کو ویسا ہی رہنے دو جیسا ہم نے نبی کریم سے پایا۔چنانچہ حضرت انس نے ایسا ہی کیا۔(12) مہمان نوازی مدینہ کے ابتدائی دور کے کٹھن اور مشکل حالات میں رئیس مدینہ ابوطلحہ اور ان کے خانوادے نے جس طرح نبی کریم ﷺ کی تائید و نصرت کی توفیق پائی وہ اپنی مثال آپ ہے۔اس پر آشوب دور کا تذکرہ ہے، ایک دن ابوطلحہ نے ام سلیم سے آکر کہا کہ میں نے رسول کریم عے کی آواز میں ضعف محسوس کیا ہے جو مسلسل فاقہ کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے۔کیا تمہارے پاس گھر میں کھانے کیلئے کچھ ہے؟ ام سلیم نے اثبات میں جواب دیا بلکہ جو کی کچھ روٹیاں ایک کپڑے میں لپیٹ کر آپ نے حضرت انس کو رسول کریم ﷺ کے پاس بھیجوایا۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ میں حضور کے پاس مسجد نبوی میں حاضر ہوا آپ صحابہ کے ساتھ تشریف فرماتھے اور سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔رسول اللہ ﷺ نے خود ہی استفسار فرمایا کہ کیا ابوطلحہ نے تمہیں کھانے کی کوئی چیز دے کر بھجوایا ہے۔حضرت انسؓ نے عرض کیا جی حضور ! رسول اللہ ﷺ نے تمام حاضرین مجلس سے فرمایا چلو (ابوطلحہ) کے گھر چلیں میں نے آگے جا کر ابوطلحہ کوخبر کی رسول اللہ ﷺ صحابہ کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں۔ابوطلحہ نے ام سلیم سے فکر مندی میں بات کی کہ رسول اللہ اللہ تو لوگوں کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں اور ہمارے پاس کھانا پیش کرنے کا مناسب انتظام نہیں ہے۔ام سلیم نے کمال تو کل سے جواب دیا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، تب ابوطلحہ