سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 407
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 407 حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے دو کے برابر قرار دیا تھا۔یوں حفاظت قرآن کے سلسلے میں حضرت ابی نے بہترین قاری ہونے کا حق ادا کر کے دکھا دیا۔(25) حضرت عمرؓ کے زمانے میں بھی حضرت ابی و علمی خدمات کی توفیق عطا ہوتی رہی۔علمی مرتبہ کی وجہ سے حضرت عمرؓ ان کا بہت اعزاز فرماتے تھے۔چنانچہ ابونضرہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے قبیلے کا ایک شخص جابر حضرت عمرؓ کی خدمت میں کسی حاجت کے لئے حاضر ہوا۔وہاں دیکھا کہ ایک بزرگ سفید ریش سفید لباس پہنے حضرت عمرؓ کے دربار میں موجود ہے۔میں نے اس کے سامنے اپنی فصاحت و بلاغت کے جو ہر دکھاتے ہوئے دنیا کو حقیر کر کے پیش کیا تو انہوں نے فلسفہ دنیا و آخرت بیان کرتے ہوئے کہا یہ دنیا توشہ آخرت بھی تو ہے جہاں ہمیں ان اعمال کی توفیق ملتی ہے جن کا آخرت میں بدلہ دیا جائے گا۔کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرؓ سے عرض کیا کہ اے امیر المومنین آپ کے پہلو میں یہ کون ہے؟ جو مجھ سے بہتر مضمون دنیا کے بارہ میں بیان کر رہا ہے۔حضرت عمر نے فرمایا یہ مسلمانوں کے سردار ابی بن کعب ہیں۔(26) حضرت عمرؓ نے اپنے زمانے میں حضرت ابی کو مسجد نبوی میں نماز تراویح کا امام مقرر فرمایا۔آپ نے دیکھا کہ لوگ رمضان کی راتوں میں تنہا یا الگ الگ ٹولیوں کی شکل میں نماز میں قرآن پڑھتے ہیں۔آپ نے مرکزی نظام کے تحت نماز تراویح کا سلسلہ شروع فرمایا۔حضرت عمر فر ما یا کرتے تھے یہ طریق پہلے کی نسبت کتنا عمدہ ہے کہ بجائے ٹولیوں میں قرآن پڑھنے کے لوگ ابی بن کعب جسے عمدہ اور بہترین قاری کے پیچھے قرآن سنتے ہیں۔(27) حضرت ابی بن کعب جیسے عالم سے لوگ علم سیکھنے کے لئے آتے تھے اور طرح طرح کے الٹے سیدھے سوال بھی کیا کرتے ہیں۔آپ حد درجہ سیدھی اور صاف بات کہنے کے عادی تھے جو بعض دفعه تلخ معلوم ہوتی تھی۔چنانچہ ایک دفعہ آپ کے ایک شاگرد زرین خیش نے کہا کہ مجھ سے نرمی کیجیئے۔میں آپ سے کچھ علم سیکھنا چاہتا ہوں۔حضرت اللہ نے کہا مجھے پتہ ہے تم چاہتے ہو کہ مجھ سے قرآن کی ہر آیت کے بارے میں پوچھو اور سوال کرو۔پھر واقعی زر نے کچھ ایسے ہی سوال کئے کہ فلاں صحابی تولیلۃ القدر کے بارے میں یہ کہتے ہیں آپ کی کیا رائے ہے؟ حضرت ابی بن کعب نے