سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 402 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 402

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 402 حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نیک خواہش کا علم ہوا تو فرمایا ” اس شخص کی پر خلوص نیت قبول فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اس کا اجر و ثواب اس کے حصے میں جمع کر دیا ہے۔“ مستجاب الدعوات حضرت ابی بن کعب دعا گو انسان تھے۔حضرت عمر بیان کرتے تھے کہ ایک دفعہ ہم ایک سفر میں حضرت ابی کے ساتھ قافلہ کے آخر میں تھے کہ بادل امڈ آئے ، حضرت ابی نے دعا کی کہ اے اللہ ! اس بادل اور بارش کی اذیت سے ہمیں محفوظ رکھنا۔آگے گئے تو قافلہ کے اگلے حصے کے کپڑے اور پالان بارش سے بھیگ چکے تھے انہوں نے ہم سے پوچھا کہ تمہارے کپڑے خشک ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ میں نے کہا حضرت ابی کی دعا کی برکت سے اور تم نے بھی ہمارے ساتھ دعا کی ہوتی تو اس کی برکت سے فائدہ حاصل کرتے۔ایک دفعہ حضرت ابی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ بخار وغیرہ تکلیف کے آنے پر مومن کو کیا جز املتی ہے فرمایا نیکیوں کی صورت میں بدلہ ملتا ہے۔حضرت ابی نے دعا کی کہ اے اللہ! مجھے ایسا بخار دے دے جو تیری راہ میں جہاد اور بیت اللہ اور مسجد جانے سے روک نہ بنے۔چنانچہ حضرت ابی کو ہمیشہ بخار رہتا تھا۔(13) عشق رسول الله حضرت ابی رسول اللہ اللہ کے عاشق صادق تھے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت علی متنبہ کرنے والی آواز اور بڑے دل ہلا دینے والے جملے سے ہمیں رات کو تہجد کے لئے بیدار کیا کرتے اور فرماتے تھے’ دیکھو! ایک لرزہ پیدا کر دینے والی گھڑی آیا چاہتی ہے۔موت سر پر کھڑی ہے اُٹھو اور اپنے رب کی بندگی بجالاؤ۔اللہ کو یاد کرو تب ہم اٹھ کر نماز تہجد ادا کرتے۔(14) ایک دفعہ حضرت ابی نے رسول اللہ سے ایک عجیب عاشقانہ رنگ میں پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ! میں جب بھی دعا کرتا ہوں تو میرا دل کرتا ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ آپ کی ذات پر درود بھیجوں۔اگر دعا کا چوتھا حصہ میں درود پڑھا کروں تو کیا مناسب ہوگا؟ حضور نے فرمایا جتنا تمہارا جی چاہے