سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 389 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 389

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 389 حضرت عبد اللہ بن عمرو بن حرام انصاری رضی اللہ عنہ حضرت عبد اللہ کے برادر نسبتی اور جگری دوست حضرت عمرو بن جموح بھی شہادت کی تمنالئے احد میں آئے اور پھر زندہ واپس نہیں لوٹے۔نبی کریم نے ان دونوں کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا یہ دونوں بھائی دنیا میں بھی اکٹھے تھے اور باہم محبت کرتے تھے ان کو ایک قبر میں دفن کیا جائے۔چنانچہ وہ ایک ہی قبر میں دفن ہوئے۔‘ (6) حضرت جابرا اپنے والد کی اکلوتی نرینہ اولا د اور ساتھ بہنوں کے بھائی تھے۔طبعا والد کی جدائی کا صدمہ بھاری تھا۔شہادت کے بعد والد کے چہرہ سے کپڑا اٹھا کر بار بار دیکھتے انکا بوسہ لیتے اور روتے جاتے۔ان کی پھوپھی فاطمہ بھی رونے لگیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ” ان کی موت پر نہ ردو فرشتوں نے اپنے پروں سے ان کو سایہ کر رکھا ہے۔“ (7) حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ میرے والد اور ماموں اکٹھے دفن کئے گئے تھے۔میرا دل اس پر مطمئن نہ تھا۔چنانچہ چھ ماہ بعد انہیں قبر سے نکال کر الگ دفن کیا گیا۔دیکھا نعش صحیح سلامت تھی، سوائے کان کے معمولی گوشت کے جو کھایا گیا تھا۔ایک دفعہ سیلاب آنے پر قبر کھل گئی تو دیکھا کہ جیسے حضرت عبداللہ آرام کی نیند سوئے ہیں۔تدفین کے وقت انہیں ایک چادر میں کفن دے کر چہرہ اس سے ڈھانک کر پاؤں پر گھاس ڈالی گئی تھی اور وہ ویسے کے ویسے تھے۔(8) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض دفعہ اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کی خاطر ایسے خارق عادت نشان بھی دکھا دیتا ہے۔دوبارہ شہادت کی خواہش حضرت عبد اللہ کی وفات کے بعد رسول کریم ﷺ نے حضرت جاڑا کو مغموم پا کر تعزیت فرمائی اور پوچھا مغموم کیوں ہو آؤ میں تمہیں خوش کروں اور بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کر کے سامنے بٹھایا اور فرمایا مجھ سے جو چاہو خواہش کرو میں تمہیں عطا کروں گا۔حضرت عبداللہ نے عرض کیا اے میرے رب ! ہم نے تیری بندگی کا حق تو ادا نہیں کیا۔اب تیرے سامنے خواہش کس منہ سے پیش کریں۔“ پھر کہا ” بس اب تو اگر کوئی خواہش ہے تو یہی کہ مجھے پھر دنیا میں لوٹا دے تا کہ پھر تیرے نبی کے ساتھ ہو کر دشمن کا مقابلہ کروں اور ایک دفعہ پھر شہید ہو کہ آؤں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا