سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 26
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 26 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتے ہیں ان کی جزا مغفرت ہے۔اور دوسری سورۃ نساء کی آیت 111 جس میں بیان ہے کہ جو شخص بدی اور ظلم کر کے اللہ سے بخشش کا طلب گار ہو وہ اللہ تعالیٰ کو بہت بخشنے والا اور مہربان پائیگا۔(60) حضرت ابو بکر قرآن کریم پر غور و تدبر اور نبی کریم ﷺ کی پاک صحبت کی برکت سے علمی عقدے حل کرتے رہتے تھے۔ایک دفعہ سورۃ نساء کی آیت 124 کے بارہ میں دل میں سوال پیدا ہوا کہ اگر ہر شخص کو اس کی ہر بدی پر سزا ملے گی تو نجات کیسے ہوگی؟ سخت فکر مندی سے نبی کریم ہے سے یہ سوال پوچھا تو آپ نے تسلی دلاتے ہوئے فرمایا اللہ تجھ پر حم کرے اسے ابوبکر! تجھے اللہ تعالیٰ نے بخش دیا ہے۔دوسرے پوری امت کے لئے تسلی کا یہ جواب بھی سنایا کہ یہ جو آپ لوگ بیمار ہوتے یا تکلیف اٹھاتے یا غمگین ہوتے ہیں۔یہ بھی بدی کی جزا ہے جو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں دیگر مومنوں کی کفایت فرمالیتا ہے۔“ (61) سوره نصر نازل ہوئی تو رسول کریم نے صحابہ کی مجلس میں یہ آیات سنائیں جن میں اللہ تعالیٰ کی نصرت اور فتح کے آنے اور فوج در فوج لوگوں کے دین اسلام میں داخل ہونے کا ذکر ہے حضرت ابوبکر رو پڑے۔صحابہ حیران تھے کہ فتح کی خوشخبری پر رونا کیسا؟ مگر حضرت ابوبکر کی بصیرت اور فراست بھانپ گئی تھی کہ یہ آیت جس میں رسول اللہ ﷺ کے مشن کی تکمیل کا ذکر ہے، آپ کی وفات کی خبر دے رہی ہے۔اور اپنے محبوب کی جدائی کے غم سے بے اختیار ہو کر رو پڑے۔اور پھر اس کے صرف دوسال بعد نبی کریم ﷺ کی وفات ہوگئی۔حضرت ابوبکر کی اس خدا داد بصیرت کا تذکرہ صحابہ میں عام تھا۔ایک اور موقع پر جب نبی کریم ﷺ نے مجلس میں ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندہ کو اختیار دیا کہ دنیا میں رہنا ہے یا خدا کے پاس حاضر ہونا ہے تو اس نے خدا کو اختیار کیا۔حضرت ابوبکر اس پر بھی رو پڑے۔صحابہ نے پہلے تعجب کیا مگر بعد میں انہیں پتہ چلا کہ اس بندہ خدا سے مراد ہمارے آقا ومولا حضرت محمد تھے۔جنہوں نے دنیا پر خدا کے پاس جانے کو ترجیح دی۔(62) حضرت ابو بکر کے علمی شغف کا اندازہ اس سوال سے بھی ہوتا ہے جو انہوں نے مسئلہ تقدیر کے