سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 353 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 353

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 353 حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سخت کلامی کرتے ہوئے آگے بڑھے اور کہا ” جان کی امان چاہتے ہو تو آئندہ سے ہمارے کمزوروں کو آکر بے وقوف بنانے کا یہ طریقہ واردات ختم کرو۔“ حضرت مصعب نے نہایت محبت سے کہا کیا آپ ذرا بیٹھ کر ہماری بات سنیں گے؟ اگر تو آپ کو بات بھلی لگے تو مان لیجئے اور بری لگے تو بے شک اس سے گریز کریں۔اُسید منصف مزاج آدمی تھے۔بولے بات تو تمہاری درست ہے۔اور پھر نیزہ وہیں گاڑ کر بیٹھ گئے۔حضرت مصعب نے انہیں قرآن پڑھ کرسنایا اور ان تک پیغام حق پہنچایا۔تو یہ سچی تعلیم سن کر اسید بے اختیار کہہ اٹھے کہ یہ کیسا خوبصورت کلام ہے! اچھا یہ بتاؤ اس دین میں داخل ہونے کے لئے کیا کرنا پڑتا ہے؟ اسعد بن زرارہ اور مصعب نے انہیں بتایا کہ نہا دھو کر اور صاف لباس پہن کر حق کی گواہی دو پھر نماز پڑھو۔انہوں نے ایسا ہی کیا۔پھر اُسید خود ہی کہنے لگے کہ میرا ایک اور بھی ساتھی ہے۔یعنی سعد بن معاد اگر وہ مسلمان ہو جائے تو اس کی ساری قوم سے ایک شخص بھی قبول اسلام سے پیچھے نہیں رہے گا۔اور میں ابھی اسے تمہارے پاس بھیجتا ہوں۔اور انہوں نے سعد کو نہایت حکمت کے ساتھ مصعب کے پاس بھیجا۔حضرت مصعب بن عمیر نے ان کو بھی نہایت محبت اور شیریں گفتگو سے رام کر لیا انہیں قرآن سنایا اور اسلام کا پیغام پہنچایا۔چنانچہ حضرت سعد نے بھی اسلام قبول کر لیا۔بلاشبہ یہ دن مدینہ میں اسلام کی فتح کے بنیا درکھنے والا دن تھا۔جس روز ایسے عظیم الشان با اثر سرداروں نے اسلام قبول کیا حضرت سعد نے اپنی قوم کو یہ کہہ دیا ” میرا کلام کرنا تم سے حرام ہے جب تک مسلمان نہ ہو جاؤ۔اس طرح عبد الاشہل کا سارا قبیلہ مسلمان ہو گیا۔(2) نڈر داعی الی اللہ علامہ ابن اثیر نے آپ کے قبول اسلام پر کیا خوب رائے دی ہے کہ حضرت سعد کا قبول اسلام سب لوگوں سے زیادہ برکت کا موجب ہوا کہ ان کی پوری قوم کے مردوں اور عورتوں کو ہدایت نصیب ہوئی جن کی تعداد قریباً ایک ہزار تھی۔یہ مدینہ کا پہل محلہ تھا جو پورے کا پورا مسلمان ہو گیا۔(3) اس واقعہ سے حضرت سعد کی کمال بصیرت، دانشمندی ، جرات و بہادری سچائی سے رغبت اور اسے پھیلانے کے شوق اور طبعی شرافت و سعادت قبیلے میں ان کے اثر رسوخ اور مقام کا بھی پتہ چلتا