سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 331
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 331 حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ نام و نسب حضرت خباب بن الارت حضرت خباب کی کنیت ابوعبداللہ تھی۔بچپن میں آپ قید ہو گئے اور مکہ میں آکر فروخت ہوئے قبیلہ بنوزھرہ کی ایک دولت مند خاتون اتم انمار نے انہیں خرید لیا۔اس حوالہ سے ان کی نسبت کبھی بنی زہرہ کے آزاد کردہ غلام کے طور پر اور کبھی ان کے حلیف کے طور پر بیان کی جاتی ہے۔قبول اسلام اور مصائب پر صبر حضرت خباب بہت ابتداء سے اسلام قبول کرنے والے اصحاب رسول میں سے ہیں جب آنحضرت علی ابھی دارارقم میں تھے۔اس ابتدائی زمانہ میں جن سات افراد کا قبول اسلام نمایاں طور پر معلوم ہوتا ہے ان ” سابقون الاولون میں حضرت ابو بکر کے ساتھ حضرت خباب اور حضرت مقداد بن اسود شامل ہیں۔(1) حضرت خباب بوجہ غلامی اپنا کوئی خاص قبیلہ نہیں رکھتے تھے۔اس کمزوری کی وجہ سے آپ کو بہت مصائب اور ظلم و تشدد کا سامنا کرنا پڑا مگر یہ تکالیف انہیں اسلام سے منحرف نہ کر سکیں۔(2) روایات سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں لوہے کی زرہیں پہنا کر دھوپ میں چھوڑ دیا جاتا۔ایک طرف لوہا گرم ہو کر تیا دوسری طرف صحرائے عرب کی گرمی اور دھوپ کی تمازت ہوتی اور سخت تکلیف اور اذیت میں ان کے دن گزرتے۔بعض دفعہ ان کے لوہارے کے کام کے دوران ان کے دہکائے انگاروں پر ہی ان کو لٹا دیا جاتا اور انکی پشت کو اس سے داغا جاتا۔یہاں تک کہ پشت کا گوشت پگل پگل کر ان انگاروں کو سرد کرتا مگر ان ظالموں کے ظلم کی آگ ٹھنڈی نہ ہوتی۔(3) ان تمام مصائب اور ابتلاؤں میں حضرت خباب نے کمال صبر کا نمونہ دکھایا اور ظالم کا فر کبھی بھی ان کی زبان سے کلمہ کفر نکلوانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔آنحضرت علیہ حضرت خباب کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور ان سے بہت محبت کرتے تھے۔آپ نے بظاہر اس معمولی لوہارے کا کام کرنے والے کو کبھی نظرا نداز نہیں کیا۔بلکہ بسا اوقات