سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 328
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 328 حضرت مقداد بن عمرو رضی اللہ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے حضرت زبیر کی بیٹی ضباعہ ان سے بیاہ دی اور یوں حضور۔ساتھ ایک تعلق مصاہرت بھی قائم ہو گیا۔بعد میں مقداد خیبر کے معرکہ میں شامل ہوئے اور مال غنیمت سے حصہ ملا جو پندرہ وسق تھا۔بعد میں حضرت معاویہؓ نے اسے ایک لاکھ درہم میں خریدا۔شوق جہاد حضرت مقداد کے شوق جہاد کا وہی عالم تھا جس کا اظہار انہوں نے رسول کریم عہ کے سامنے کیا تھا کہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے۔بعد کے زمانے میں جب بوڑھے ہو گئے اور بھاری بھر کم بھی تھے۔کسی نے کہا کہ قرآن شریف نے تو مریض اور کمزور کو معذور قرار دیا ہے آپ کو جہاد پر جانے کی کیا ضرورت ہے؟ کہنے لگے کہ قرآن کا حکم ہے اِنْفِرُ وا خِفَافًا وَثِقَالًا وَ جَاهِدُوا۔(التوبہ: 42) کہ اے لوگو جہاد کیلئے نکلو خواہ ہلکے ہو یا بھاری۔بالعموم اس آیت میں بھاری اور ہلکے کے معنے ہتھیار سے لیس یا بغیر ہتھیار کے کئے جاتے ہیں لیکن مقداد کہا کرتے تھے کہ ثِقالاً سے بھاری بھر کم بدن بھی مراد ہو سکتا ہے اور اگر میرا وزن بڑھ کر جسم بھاری بھی ہو چکا ہے تو بھی مجھے حکم ہے کہ جہاد کیلئے نکلنا چاہیے۔چنانچہ آپ آخر دم تک با قاعدگی سے جہاد میں شامل ہوتے رہے۔(11) انکسار ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے انہیں ایک مہم پر بھیجا اور اس کا امیر مقرر فرمایا۔واپس آئے تو رسول کریم نے دریافت فرمایا کہ مہم کیسی رہی؟ دستہ کے امیر ہونے کی ذمہ داری کے بوجھ سے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس کے بعد میں کبھی امیر بننا پسند نہیں کروں گا۔(12) ظاہر ہے اس میں ان کی طبیعت کا انکسار بھی شامل ہوگا۔آنحضرت ﷺ نے اپنے جن خاص اصحاب کا تعریفی رنگ میں ذکر کیا ہے ان میں حضرت مقداد بھی تھے۔ایک موقع پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ خدا نے مجھے سات وزراء( نائین ) عطا کئے ہیں پھر ان سات اصحاب میں حضرت مقداد کا بھی ذکر کیا۔ایک اور موقع پر فرمایا کہ چار لوگوں سے مجھے