سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 329
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم خاص محبت ہے اور ان میں مقداد کا ذکر کیا۔(13) 329 حضرت مقداد بن عمرو رضی اللہ اسی طرح فرمایا جنت جن لوگوں کیلئے مشتاق ہے ان میں حضرت مقداد بھی ہیں۔(14) حضرت مقدار جرف مقام پر جو مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر ہے فوت ہوئے۔آپ کا جنازہ کاندھوں پر اٹھا کر مدینہ لایا گیا اور جنت البقیع میں تدفین ہوئی۔آپ کا سن وفات 33 ہجری ہے عمر 70 برس تھی۔حضرت مقداد بیان کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن سورج لوگوں کے قریب کر دیا جائے گا اور لوگ پسینہ سے شرابور ہوں گے۔یہ کیفیت ان کے اعمال کی نسبت سے ہوگی۔جن کے اعمال نسبتا اچھے ہونگے ان کو کم پسینہ آئے گا اور جن کے اعمال میں کمی ہوگی ان کو زیادہ پسینہ آئے گا مثلاً بعض کو گھٹنوں بعض کو کمر تک اور جن کے عمل کچھ اور کم ہوں گے ان کے مونہوں تک لگام ہوگی اور وہ عرق ندامت میں غرق ہو نگے۔‘ (15) حضرت مقداد بے شک فوت ہو گئے مگر آنحضرت ﷺ کے سامنے انہوں نے جس فدائیت کا اظہار کیا تھا، اس حوالے سے وہ ہمیشہ کیلئے زندہ ہیں۔اور آج بھی دین کی راہ میں جذ بہ قربانی کا اظہار کرتے ہوئے حضرت مقداد کے تاریخی کلمات دہرائے جاتے ہیں۔جن سے انہوں نے اپنے سچے جذبوں کو زبان دی تھی کہ یا رسول اللہ ! ہم آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے لڑیں گے۔کسی نے سچ ہی تو کہا ہے۔ہرگز نمیرد آنکه دلش زنده ثبت است پر شد بعشق جریدہ عالم دوام شاں حواله جات -2 -4 -5 -6 ī ņ ♡ † 46 −1 -3 ابن سعد جلد 3 ص 163 ابن سعد جلد 3 ص 161 مستدرک حاکم جلد 3 ص 348 مستدرک حاکم جلد 3 ص 348 اسد الغابہ جلد 4 ص409 ابن سعد جلد 3 ص 161