سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 298 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 298

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 298 حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کا حل اور نجات نماز میں ہی تھی۔(23) اذان بلالی اور یا درسول آنحضرت ﷺ کی وفات ہوئی تو حضرت بلال صخت بے چین ہو گئے ابھی آپ کی تدفین عمل میں نہیں آئی تھی کہ وہ آخری اور یادگار اذان حضرت بلال نے مدینہ میں کہی اس وقت لوگوں کے دل صدمے سے سخت نڈھال تھے۔بلال نے اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلهُ إِلَّا اللَّهُ وَاَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَّسُولُ اللہ کہا تو ایک عجیب عالم تھا۔عاشق رسول ہی ہے بلال کی آواز اپنے آقا کو نہ پا کر گلو گیر ہوگئی۔لوگ روئے اور بہت روئے اور حضرت بلال کی یہ اذ ان لوگوں کے لئے ایک یا د رہ گئی۔رسول اللہ ہے کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر آپ کو کہتے کہ اذان دیا کریں تو یہ عرض کرتے کہ اب رسول اللہ علی کے بعد اذان کہنے کو میرا جی نہیں چاہتا۔حضرت ابو بکر بھی ان کی حالت سمجھتے اور فرماتے ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی۔(24) معلوم ہوتا ہے کہ اَشْهَدُ اَنْ مُحَمَّداً رَّسُولُ الله کہتے ہوئے جب بلال کو حضور ﷺ کی یاد آتی تو اس کی تاب نہ لا سکتے تھے رسول اللہ ﷺ کی جدائی کے بعد تو مدینہ میں بھی ان کا دل نہیں لگتا تھا۔حضرت ابو بکر سے عرض کیا اجازت ہو تو میں شام کے علاقوں میں جہاں جہاد ہو رہا ہے وہاں چلا جاؤں تا راہ خدا میں جام شہادت نوش کر سکوں حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا ” میں بوڑھا ہو گیا ہوں میرا بھی تم پر کوئی حق ہے میرے پاس رک جاؤ۔چنانچہ وہ کچھ عرصہ آپ کے پاس رک گئے۔پھر باصرار عرض کیا اگر تو آپ نے مجھے خدا کی خاطر آزاد کیا تھا تو پھر میں جہاد پر جانا چاہتا ہوں مجھے جانے دیجیئے۔تب حضرت ابو بکر نے آپ کو روکا نہیں اور یوں آپ شام تشریف لے گئے۔بعض روایات کے مطابق بلال حضرت ابوبکر کی وفات تک مدینہ میں ہی رہے۔پھر حضرت عمر سے اجازت لے کر جہاد کیلئے شام چلے گئے۔حضرت عمرؓ نے پوچھا اذان کون دے گا تو حضرت بلال نے حضرت سعد قرظی کے بارہ میں مشورہ دیا جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بھی اذان دیتے رہے۔(25) حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جب بیت المقدس فتح ہوا اور وہ وہاں تشریف لے گئے تو جابیہ مقام پر حضرت بلال سے ملاقات ہوئی۔حضرت بلال نے عرض کیا کہ مجھے اور میرے دینی بھائی ابورویحہ