سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 291
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 291 حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ غلامی اختیار کرنے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا۔وہ دیر رسول ﷺ سے چمٹ کر آپ کے ہی ہو گئے۔آپ کی خدمات بجالانے لگے اور سفر وحضر میں آپ کے ساتھی بن گئے۔اُس زمانے میں آنحضرت جعلی وہ دعوت الی اللہ کی مہمات کے لئے اردگرد کے علاقوں میں جایا کرتے تھے۔حضرت بلال بھی آپ کے شریک سفر ہوتے اور مختلف مواقع پر بھوکے اور فاقے سے رہ کر بھی کئی روز تک آنحضرت ﷺ کے ساتھ ان مہمات میں شریک ہوتے رہے۔(5) رسول کریم علیہ فرماتے تھے اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو کم از کم سات وزراء دیئے اور مجھے چودہ ایسے مشیر عطا فرمائے۔پھر آپ نے بلال کی خدمات کی بدولت انہیں ان چودہ مددگاروں اور معاونین میں سے قرار دیا جو خاص طور پر آپ کو نصیب ہوئے۔کفار مکہ بلال کو بڑی تحقیر سے دیکھا کرتے تھے اور جب آنحضرت ﷺ کے ساتھ ان کو دیکھتے تو حضور ﷺ کو مخاطب کر کے کہتے تھے کہ اے محمد ﷺ کیا آپ ان چند غلاموں پر راضی ہو گئے ہو۔(6) بہر کیف مکہ میں مخالفت بڑھتی گئی اور مسلمانوں نے حبشہ اور مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ہجرت اور یا دوطن حضرت بلال کو بھی مدینہ ہجرت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ ابتدائی ہجرت کرنے والوں میں حضرت عمار اور حضرت سعدؓ کے ساتھ مدینہ پہنچے۔ابتدائی زمانے میں مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہیں آئی اور مکہ کی یاد بھی بہت ستاتی تھی۔اس زمانہ کے متعلق حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ میں اپنے والد حضرت ابو بکر اور حضرت بلال کی بیماری کا سن کر رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے ان کی خبر گیری کے لئے گئی۔دیکھا کہ وہ بیمار ہونے کی حالت میں پڑے ہیں۔بلال سے ان کا حال پوچھا تو انہوں نے یہ اشعار پڑھے۔الا لَيْتَ شَعُرى هَلْ اَبِيْتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِى اِذْخَرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ اَرِدَنُ يَوْمًا مِّيَاهَ مَجِنَّةِ وَهَلْ يَبْدُونُ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ