سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 14 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 14

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 14 حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ قرآن کا اہم کام بھی شروع کر رکھا تھا جس کے باعث سوائے نمازوں کے گھر سے کم نکلتے تھے۔(35) فتنہ ارتداد و بغاوت و مدعیان نبوت دیگر خطرات میں سے ایک بڑا خطرہ جو خلافت اولیٰ کے فوراً بعد پیدا ہوا وہ ارتداد و بغاوت کا فتنہ تھا۔عرب کے مختلف علاقوں میں کئی بادیہ نشین مرتد ہوکر زکوۃ سے منکر ہو گئے۔پھر بعض لوگوں نے نبوت کے دعوے کر کے بغاوت کر دی۔یمامہ کے مسیلمہ کذاب نے تو حضور کی زندگی ہی میں نبوت کا دعویٰ کر دیا تھا، اس کے بعد ایک عورت سجاح “ نے بھی یہ دعویٰ کر کے علم بغاوت بلند کیا اور مسیلمہ سے شادی رچا کر اتحاد کر لیا۔کئی اور مدعیان نبوت بھی پیدا ہو گئے۔انہوں نے بھی مرتدین وغیرہ کو اپنے ساتھ ملا کر بغاوت کر دی۔یہ تھا اس وقت کے عرب کا نقشہ کہ ایک طرف مرتدین ہیں ، دوسری طرف مدعیان نبوت، تیسری طرف منکرین زکوۃ۔اور مدینہ محض اسلام کا ایک جزیرہ بن کر رہ گیا۔ان حالات میں اسلام کو بچانا ،مسلمانوں کی حفاظت کرنا اور خلافت کو استحکام عطا کرنا یہ حضرت ابو بکر کا ایک عظیم الشان کارنامہ ہے۔چنانچہ علامہ ابن خلدون نے اس دور کی طوائف الملو کی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ رسول اللہ کی وفات کے بعد تمام عرب مرتد ہو گیا۔بعض قبیلے سارے کے سارے اور بعض جزوی حالت میں۔نبی کریم کی وفات کے بعد مسلمانوں کی حالت تعداد کی کمی اور دشمن کی کثرت کے باعث بکریوں کے اس ریوڑ جیسی ہوگئی جو برسات کی اندھیری رات میں بغیر چرواہے کے رہ جائے۔عرب کے خاص و عام مرتد ہو کر طلیحہ اسدی مدعی نبوت کے ساتھ مل گئے قبیلہ طے اور اسد اور غطفان بھی مرتد ہو گئے۔“ پھر لکھا ہے: ” قبیلہ ہوازن نے زکوۃ روک لی۔قبیلہ بنوسلیم کے خواص نے ارتداد کا اعلان کر دیا اور قریباً ہر جگہ سب لوگوں نے یہی کیا۔ہذیل، بنو تغلب اور دیگر کئی قبائل نے سجاح کی پیروی کی اور ان تمام گروہوں نے مل کر مدینہ پر حملہ کا ارادہ کیا۔“ (36) ابن اثیر نے لکھا ہے رسول اللہ ﷺ کی وفات کی خبر جب مکہ پہنچی تو وہاں کا حاکم عتاب کے مارے چھپ گیا اور مکہ لرز اٹھا۔قریب تھا کہ سارے کا سارا شہر مرتد ہو جاتا (37) باقی علاقے جہاں یہودی اور نصرانی تھے۔ان کو الگ گھل کھیلنے کا ایک موقع مل گیا۔