سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 259 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 259

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 259 حضرت ابان بن سعید رضی اللہ عنہ حضرت ابان بن سعید الاموی قریشی حضرت ابان کے والد سعید بن العاص الاموی کنیت ابواحیہ تھی۔دادا عاص بدر میں حضرت علی کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ان کی والدہ ھند بن مغیرہ مخزومیہ یا صفیہ خالد بن ولید کی پھوپھی تھیں۔پانچویں پشت میں عبد مناف پر رسول اللہ ﷺ سے ان کا نسب مل جاتا ہے۔ابان کے دو بھائیوں خالد اور عمر و مسلمانوں کے مقابلہ میں ابتدائی زمانہ میں اسلام قبول کر لیا تھا اور حبشہ کی طرف ہجرت کی سعادت پائی۔جبکہ دو بھائی عاص اور عبیدہ بدر میں مارے گئے۔ابان بھی آغاز میں اسلام کے سخت مخالف تھے۔بھائیوں کے قبول اسلام پر ابان کو سخت صدمہ پہنچا جس کا اظہار انہوں نے اپنے اشعار میں یوں کیا۔الالَيتَ ميتاً بالظريبة شاهد أَطَاعَامَعَا أَمَرَا لِنِّسَاءِ فَأَصْبَحَا لِمَا يَفتَرى فِي الدِّينِ عَمْرُو وَّ خَالِدُ يُصِيبَان مِن أَعْدَا لِنَا مَن يُكَايد یعنی اے کاش! ظریبہ مقام پر مدفون ہمارے آباؤ اجداد اس جھوٹ و افتراء کو دیکھ لیتے جو عمر و اور خالد نے کیا ہے تو کتنا برا مناتے۔ان دونوں نے عورتوں والا کمزور دین قبول کر لیا اور ہمارے دشمنوں کے معاون و مددگار ہو گئے جو مخالفانہ تدبیریں کرتے رہتے ہیں۔اس کے جواب میں ان کے مسلمان ہونے والے بھائی عمر ہ نے بھی کیا خوب کہا يَقُولُ إِذَا شَكَتْ عَلَيْهِ أُمُورُه اَلَالَيتَ مَيْتًا بِالطَّرِيْبَةِ يَنشُرُ فَدَع عَنْكَ مَيْتًا قَدَمَضَى لِسَبِيْلِهِ وَاقْبَلُ عَلَى الحَيِّ الَّذِي هُوَاَقْفَرُ یعنی جب ہمارے بھائی کے حالات اس کے مخالف ہوتے ہیں تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ کاش! ظریبہ میں مدفون شخص زندہ ہو کر دیکھے۔اے ہمارے بھائی ! ان مردوں کے ذکر کو چھوڑ و جو اپنی راہ پر روانہ ہو چکے اور ان زندوں پر توجہ کرو جو وطن سے بے وطن ہو چکے ہیں۔حضرت ابان نے حدیبیہ اور خیبر کے درمیان اسلام قبول کیا۔اس کا سبب یہ واقعہ ہوا کہ وہ تجارت کے لئے ملک شام کو گئے۔وہاں ایک راہب سے ملاقات ہوئی اس سے رسول اللہ صلی اللہ بارہ میں مشورہ کیا اور بتایا کہ میں قریش سے ہوں اور ہم میں سے ایک شخص ظاہر ہوا ہے جو موسی