سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 241
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 241 حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ پروردہ اس حسین و جمیل شہزادے کی رعنائیاں چھین لی تھیں۔پھر بھی صبر واستقامت کے پیکر مصعب اسلام پر پختگی سے قائم تھے۔ماں نے لخت جگر کی حالت زار دیکھی تو ما متا تڑپ اٹھی۔اس نے آئندہ سے مخالفت ترک کر دی اور بیٹے کو اس کے حال پر چھوڑ دیا۔(5) حضرت سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ مصعب بن عمیر کو میں نے آسائش کے زمانہ میں بھی دیکھا اور مسلمان ہونے کے بعد بھی، راہ مولیٰ میں آپ نے اتنے سارے دکھ جھیلے کہ میں نے دیکھا آپ کے جسم سے جلد اس طرح اترنے لگی تھی جیسے سانپ کی کینچلی اترتی اور نی جلد آتی ہے۔(6) ایک دن ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی نے دیکھا مصعب بن عمیر اس حال زار میں آپ کی مجلس میں آئے کہ پیوند شدہ کپڑوں میں ٹاکیاں بھی چمڑے کی لگی ہیں۔صحابہ نے دیکھا تو سر جھکا لئے کہ وہ بھی مصعب کی کوئی مدد کرنے سے معذور تھے۔مصعب نے آکر سلام کیا۔آنحضرت نے دلی محبت سے وعلیکم السلام کہا اور اس امیر کبیر نو جوان کی آسائش کا زمانہ یاد کر کے آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔پھر مصعب کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے اور نصیحت کرتے ہوئے فرمایا الحمد للہ دنیا داروں کو ان کی دنیا نصیب ہو۔میں نے مصعب کو اس زمانے میں بھی دیکھا ہے جب شہر مکہ میں ان سے بڑھ کر صاحب ثروت و نعمت کوئی نہ تھا۔یہ ماں باپ کی عزیز ترین اولاد تھی اسے کھانے پینے کی ہر اعلیٰ نعمت وافر میسر تھی۔مگر خدا اور اس کے رسول کی محبت و نصرت نے اسے آج اس حال تک پہنچایا ہے اور اس نے وہ سب کچھ خدا اور اس کی رضا کی خاطر چھوڑ دیا۔پھر خدا نے اس کے چہرہ کو نور عطا کیا ہے۔‘(7) پھر حضور نے صحابہ سے فرمایا ” تمہارا کیا حال ہو گا جب صبح و شام تمہیں نئی پوشاک عطا ہوگی اور تمہارے سامنے ایک کے بعد کھانے کا دوسرا طشت رکھا جائیگا اور گھروں میں پردے لٹکے ہوں گے۔صحابہ نے عرض کیا حضور وہ کیا ہی خوش وقت ہو گا۔ہم عبادت کے لئے تو فارغ ہوں گے۔حضور نے فرمایا ”نہیں تم آج جس حال پر ہو وہ زیادہ بہتر ہے اور زیادہ اجر وثواب کا موجب ہے۔“ (8) مدینہ میں کامیاب دعوت الی اللہ 11 نبوی کے موسم حج میں رسول خدا ﷺ کا تعارف دعوت الی اللہ کے دوران مدینہ کے قبائل اوس وخزرج سے ہوا اور عقبہ مقام پر ان میں سے بارہ افراد نے آپ کی بیعت بھی کی جو بیعت اولیٰ