سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 11
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 11 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ امارت و حکومت سے ہمیں محروم کر دیں۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں جب وہ خاموش ہوا تو میں نے اس کا جواب دینا چاہا اور میں نے اس موقع کیلئے ایک بہت خوبصورت نقشہ ذہن میں اپنی تقریر کا سجایا ہوا تھا لیکن حضرت ابو بکر نے مجھے بات کرنے سے روک دیا۔میں نے پسند نہ کیا کہ انہیں ناراض کروں کیونکہ مجھے حضرت ابو بکر کا بہت لحاظ تھا۔اور وہ مجھ سے کہیں زیادہ بردبار اور زیادہ باوقار تھے۔پھر انصار کا ایک اور خطیب کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ اے مہاجرین کی جماعت ! رسول کریم کسی بھی مہم کیلئے تمہارے ایک آدمی کے ساتھ ہمارا بھی ایک آدمی چنتے تھے جس سے صاف ظاہر ہے کہ امارت و حکومت ہم دونوں کا حق ہے۔ایک امیر ہم میں سے اور ایک تم میں سے ہونا چاہیے۔“ اس پر حضرت زید بن ثابت انصاری نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ مہاجرین میں سے تھے اور ہمارا امام بھی مہاجرین میں سے ہوگا اور ہم اس کے انصار و مددگار ہو نگے۔حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت ابو بکر نے میری سوچوں سے کہیں بڑھ کر ایسی شاندار فی البدیہہ تقریر کی کہ مجمع پر ایک سکوت طاری ہو گیا۔انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز انصار کے فضائل و مناقب سے کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سب ہمیں تسلیم ! مگر امر واقعہ یہ ہے کہ آنحضرت کے ساتھ تعلق اور دینی و دنیوی وجاہت کے باعث قریش کا عرب میں ایک مقام ہے۔اے انصار! اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی خدمات کی بہترین جزا دے اور تمہارے اس خطیب زید بن ثابت کی رائے کو قائم فرمادے۔اس کے علاوہ کسی رائے پر اکٹھے ہونا ممکن نہیں۔اس وقت حضرت ابو بکر کے دائیں حضرت عمر اور بائیں حضرت ابو عبیدہ بن الجراح تھے۔جن کے ہاتھ پکڑ کر انہوں نے کہا کہ ان دونوں میں سے جس کی چاہو بیعت کر لو میں اس کے لئے تیار ہوں۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ اس آخری فقرہ کے علاوہ جو مجھے نا گوار ہوا حضرت ابوبکر کی باقی تقریر انتہائی اعلیٰ درجہ کی تھی۔خدا کی قسم ! اگر مجھے اختیار ہو کہ میری گردن کاٹ دی جائے گی یا مجھے ایسے لوگوں کا امیر بنایا جائے گا جس میں حضرت ابو بکر موجود ہیں تو میں اپنی گردن کٹوا دوں لیکن ایسے لوگوں کا امیر بنا گوارا نہ کروں جن میں حضرت ابوبکر جیسا عظیم الشان انسان موجود ہو۔‘ (29) اس موقع پر حضرت عمر نے انصار کے نیک جذبات کو بہت خوبصورت انداز میں ابھارا کہ تمہیں