سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 12 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 12

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 12 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ معلوم ہے کہ آنحضرت نے آخری بیماری میں امام کے مقرر کیا؟ تم میں سے کون گوارا کرے گا کہ انہیں اس مقام سے ہٹائے جس پر خدا کے رسول نے انہیں کھڑا کیا اور وہ حضرت ابو بکڑ سے آگے بڑھ کر امامت کرائے۔انصار میں خدا ترسی تھی انہوں نے کہا ہم میں سے کوئی بھی ایسا پسند نہیں کرے گا۔ہم استغفار کرتے اور اس بات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں کہ ابوبکر سے آگے بڑھیں۔(30) اس پر انصار میں سے حضرت زید بن ثابت نے حضرت ابو بکر کا ہاتھ پکڑ کر کہ لوگو! یہی تمہارے امام ہیں ان کی بیعت کرو۔” حضرت عمر نے بھی حضرت ابو بکڑ سے عرض کیا آپ ہاتھ بڑھا ئیں اور ہماری بیعت لیں۔چنانچہ سب مہاجرین و انصار نے بیعت کی۔انصار میں حضرت زیڈ کے علاوہ حضرت بشیر بن سعد اولین بیعت کرنے والوں میں سے تھے۔(31) کارنامے اور فتوحات رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد مسلمانوں پر خوف اور خطرات کے مہیب بادل منڈلانے لگے تھے۔کئی عرب قبائل نے ( مرتد ہو کر ) بغاوت کر دی اور زکوۃ دینے سے انکار کر دیا۔حضرت ابو بکر نے مسند خلافت پر بیٹھتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ مسلمانوں میں وحدت قائم ہو جائے۔دوسرا کام باغیوں اور منکرین زکوۃ کا قلع قمع کیا۔فرمایا کہ آنحضرت کے زمانہ میں جو اونٹ کی تکیل بھی زکوۃ دیتا تھا وہ جب تک میں وصول نہ کر لوں اس سے جنگ کروں گا۔‘‘ (32) چنانچہ سارا عرب ایک بار پھر زکوۃ ادا کرنے لگا۔مرتدین کے زبردست فتنہ کا انسداد حضرت ابوبکر کا بڑا کارنامہ ہے۔متعدد نو مسلم قبائل نے آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد بغاوت وارتداد کا اعلان کر دیا۔حضرت ابو بکر نے جنگ کر کے ان کا بھی قلع قمع کیا۔ان خطر ناک حالات میں رسول اللہ کے ارشاد کے مطابق اسامہ کی سرکردگی میں لشکر بھی روانہ فرمایا اس کے علاوہ جمع قرآن کے عظیم الشان کام کا سہرا بھی آپ کے سر ہے۔(33) ان کارناموں کی تفصیل آگے آرہی ہے جب خلافت راشدہ کا خدائی وعدہ پورا ہوا تو قیام خلافت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے تمام خوف دور کر دئے۔خلافت کو بتدریج استحکام نصیب ہوا۔حضرت ابو بکر نے پہلا نہایت پر حکمت قدم یہ اٹھایا کہ قوم کی شیرازہ بندی کی۔اہل بیت جو مشورہ خلافت کے وقت شامل نہ ہو سکے تھے۔ان کے بارہ