سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 200 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 200

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 200 حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ انہوں نے حضرت طلحہ کی کئی شادیوں کے باوجود ان کے ساتھ نکاح کو ترجیح دی ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ اس کی وجہ حضرت طلحہ کے اخلاق فاضلہ ہیں۔وہ فرماتی تھیں کہ میں طلحہ کے ان اوصاف کریمانہ سے واقف تھی کہ وہ ہنستے مسکراتے گھر واپس آتے ہیں اور خوش وخرم باہر جاتے ہیں۔کچھ طلب کرو تو بخل نہیں کرتے اور خاموش رہو تو مانگنے کا انتظار نہیں کرتے۔نیکی کروتو شکر گزار ہوتے ہیں اور غلطی ہو جائے تو معاف کر دیتے ہیں۔(19) بلاشبہ یہی وہ اخلاق ہیں جن کے بارہ میں ہمارے آقا و مولیٰ محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا تھا کہ خَيْرُكُم أَحْسِنُكُمْ أَخْلَاقًا کہ تم میں سے سب سے بہتر وہ ہیں جو اپنے اخلاق میں سب سے اچھے ہیں۔حضرت طلحہ کی کئی بیویوں سے اولاد تھی۔حضرت حمنہ بنت بخش سے ایک بیٹا محمد نامی بہت عبادت گزار تھا اور سجاد لقب سے مشہور تھا۔ایک بیٹا یعقوب بہت زبردست شہ سوار تھا جو واقعہ حرہ میں شہید ہو گیا۔حضرت ام کلثوم بنت ابو بکر سے دو بیٹے اور ایک بیٹی عائشہ تھی۔آپ کی ایک بیٹی ام اسحاق سے حضرت امام حسن نے شادی کی جس سے طلحہ نامی بیٹا ہوا۔حضرت حسنؓ کی وفات کے بعد حضرت امام حسین نے ان سے شادی کی اور ایک بیٹی فاطمہ ان سے ہوئیں۔(20) شہادت اور فضائل حضرت طلحہ عشرہ مبشرہ میں سے تھے یعنی ان دس اصحاب رسول حملے میں سے جن کو آپ نے ان کی زندگی میں جنت کی بشارت دی اور بوقت وفات انہیں پروانہ خوشنودی عطا فر مایا۔رسول اللہ علی نے آپ کی کی ہے فرمایا جوئی میں چلتے پھرتے کو کیا چاہے نے آپ کی شہادت کی پیشگوئی کرتے ہوئے فرمایا ” جو کوئی زمین پر چلتے پھرتے شہید کو دیکھنا چاہے شہادت عثمان کے بعد حضرت طلحہ بھی ان اصحاب میں شامل تھے جو قتل عثمان کا فوری انتقام لینے کے حق میں تھے۔اسی جذباتی دور میں وہ حضرت عائشہؓ کے ساتھ جنگ جمل میں بھی شامل ہو گئے۔لیکن جب حضرت علی نے انہیں بلا کر ان کے فضائل اور سبقتوں کا ذکر کیا تو حضرت طلحہ بھی حضرت زبیر کی طرح مقابلہ سے دستبردار ہو گئے۔لشکر سے جدا ہو کر پچھلی صفوں میں چلے گئے اس دوران کوئی تیر ٹانگ میں لگا جس سے عرق النساء کٹ گئی اور اس قدر خون جاری ہوا کہ وفات