سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 185
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 185 حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کرنے کے لئے رسول خدا ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر بھجوائی تھی۔اور اس سے آپ کامیاب و کامران واپس لوٹے۔مگے میں داخلے کا وقت آیا دس ہزار قد وسیوں کے لشکر کے چھوٹے چھوٹے دستے بنائے گئے۔آخری دستہ وہ تھا جس میں خود آنحضرت علی ہے موجود تھے اور اس دستہ کے علمبردار حضرت زبیر تھے۔مکہ میں فاتحانہ شان سے داخل ہونے کے بعد حضرت زبیر اور حضرت مقداد گھوڑوں پر سوار آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضور ﷺ نے خود بڑی محبت کے ساتھ اپنے دست مبارک سے ان مجاہدوں کے چہروں سے گردو غبار صاف کی اور ان کے مال غنیمت کے حصے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ گھوڑ سواروں کے لئے ہم نے عام مجاہدین سے دو گنے حصے مقرر کئے ہیں۔یہ گویا حضرت زبیر کی شاندار خدمات پر حضور کی طرف سے انعام کا اعلان تھا۔(10) فتح مکہ کے بعد حنین کا معرکہ پیش آیا۔حسنین کی گھاٹیوں میں چھپے ہوئے تیرانداز مسلمان مجاہدین کی نقل و حرکت دیکھ رہے تھے۔حضرت زبیر کی بہادری اتنی زبان زد عام اور ضرب المثل تھی کہ کمین گاہوں میں چھپے ہوئے دشمنوں پر جب آپ نے حملے کا ارادہ کیا تو دشمنوں میں سے ایک شخص نے آپ کو پہچان لیا۔وہ بے اختیار اپنے ساتھیوں کو پکار کر کہنے لگا۔لات وغزی کی قسم یہ طویل القامت شہ سوار یقیناً زبیر ہے۔اس کا حملہ بڑا خطرناک ہوتا ہے تیار ہو جاؤ۔اس اعلان کی دی تھی کہ حضرت زبیر پر ایک دستے نے تیروں کی بوچھاڑ کر دی۔حضرت زبیر نے نہایت جرات اور دانشمندی کے ساتھ اس حملے کا مقابلہ کیا اور یہ گھاٹی دشمنوں سے بالکل خالی کروا کر دم لیا۔جنگ یرموک میں شجاعت جنگ یرموک میں بھی حضرت زبیر کی غیر معمولی شجاعت دیکھنے میں آئی دوران جنگ ایک دفعہ چند نو جوانوں نے زبیر سے کہا کہ اگر آپ دشمن کے قلب لشکر میں گھس کر حملہ کریں تو ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔حضرت زبیر کو تائید الہی سے اپنی قوت بازو پر ایسا اعتماد تھا فرمانے لگے تم میرا ساتھ نہیں دے سکتے مگر جب ان سب نوجوانوں نے اصرار کیا تو آپ نے ان نوجوان بہادروں کے دستے کو ساتھ لیا اور دشمن کے قلب لشکر پر حملہ کر دیا۔رومی فوج کے قلب کو چیرتے ہوئے تنہا لشکر کے اس پار نکل گئے تمام ساتھی پیچھے رہ گئے تھے پھر آپ حملہ کرتے ہوئے واپس لوٹے تو رومیوں نے گھوڑے کی