سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 177
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 177 حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ عورت اروی نے جس کی زمین آپ کے رقبہ کے ساتھ ملتی تھی ان کی زمین پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کر دیا تو آپ اپنی جاگیر سے دستبردار ہو گئے اور کہا کہ یہ اس عورت کو دے دو۔میں نے رسول الله ﷺ سے سنا ہے کہ جو شخص ناحق کسی کی زمین ایک بالشت بھی لیتا ہے اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا بوجھ اُٹھانا ہوگا۔(12) قبولیت دعا حق و باطل میں فرق کی خاطر اس عورت کے بارہ میں حضرت سعید نے دعا کی کہ اے اللہ اگر یہ مظلوم نہیں ظالم ہے تو یہ اندھی ہو کر اپنے کنوئیں میں گرے اور میرا حق ظاہر کر دے تا مسلمانوں پر روشن ہو کہ میں ظالم نہیں ہوں۔خدا کی شان کہ وادی عقیق میں سیلاب آنے سے زمین کی حدیں بھی ظاہر ہوگئیں اور وہ بڑھیا اسی طرح اندھی ہو کر ہلاک ہوئی اور عبرت کا ایسا نشان بنی کہ مدینہ کے لوگوں میں ضرب المثل بن گئی۔لوگ جس کو بد دعا دیتے کہتے کہ خدا اُسے اروگی کی طرح اندھا کرے۔(13) حضرت سعید اپنے زہد و ورع کے باعث فتنوں اور شورشوں سے محفوظ رہے۔وہ فتنوں کے بارے میں رسول کریم ﷺ کی یہ حدیث بیان فرماتے تھے کہ آپ نے فرمایا تاریک رات کی طرح فتنے ہونگے جن میں لوگ بہت تیزی سے داخل ہونگے۔پوچھا گیا کیا وہ سب ہلاک ہونگے یا بعض۔سعید کہنے لگے ان کے لئے قتل کافی ہے۔(14) حضرت عثمان کی شہادت کے بعد حضرت سعید مسجد کوفہ میں فرمایا کرتے کہ خلیفہ وقت کے ساتھ جو سلوک ہوا اُس سے اگر اُحد کا پہاڑ بھی لرز اٹھے تو تعجب کی بات نہیں۔“ (15) حضرت سعید عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔یعنی اُن دس صحابہ میں جنہیں رسول کریم ﷺ نے اُن کی زندگی میں جنت کی خوش خبری دی تھی۔بلاشبہ یہ عظیم الشان اعزاز تھا۔حق گوئی رض آپ حق گو اور بے باک تھے۔حضرت مغیرہ بن شعبہ امیر معاویہ کی طرف سے کوفہ کے گورنر