سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 176
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 176 حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ رہے تھے۔کلام پاک کی عظمت و شوکت کا ایسا اثر ہوا کہ حضرت عمر کی کایا پلٹ گئی۔اور رسول اللہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔(10) غزوات میں شرکت ہجرت مدینہ کے وقت حضرت سعید ابتدائی مہاجرین کے ساتھ مدینہ پہنچے رسول اللہ ﷺ نے حضرت رافع بن مالک انصاری کے ساتھ ان کی مؤاخات قائم فرمائی۔۲ ہجری میں حضرت سعید اور حضرت طلحہ کو آنحضرت ﷺ نے ایک مہم کے سلسلے میں شام کی طرف بھجوایا۔ان کا مقصد قریش کے تجارتی قافلے کے بارے میں معلومات حاصل کرنا تھیں۔اس مہم سے واپسی تک غزوہ بدر کا معرکہ سر ہو چکا تھا۔رسول اللہ یہ فتح کے ساتھ بدر سے واپس لوٹ رہے تھے۔حضرت سعید گو چونکہ دینی خدمت پر مامور ہونے کے باعث بدر کی شرکت سے محروم رہنا پڑا تھا اس لئے آنحضرت ﷺ نے انہیں بدر کی غنیمت سے حصہ عطا فرمایا اور جہاد کے ثواب کی نوید بھی سنائی۔حضرت سعید کو تمام غزوات میں آنحضرت ﷺ کے ہمرکاب رہنے کی تو فیق نصیب ہوئی۔(11) شوق جہاد حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں حضرت ابو عبیدہ کے ذریعہ شام فتح ہوا۔حضرت سعید ان کی پیدل فوج کے افسر تھے۔محاصرہ دمشق اور جنگ یرموک میں انہیں نمایاں شجاعت کے مواقع عطا ہوئے۔آپ کچھ عرصہ دمشق کے گورنر بھی رہے۔مگر شوق جہاد کا یہ عالم تھا کہ حضرت ابوعبیدہ کو لکھا کہ میں جہاد سے محروم رہنا نہیں چاہتا اس لئے میرا یہ خط پہنچتے ہی کسی کو میری جگہ دمشق میں بھجوانے کی ہدایت فرمائیں تا کہ میں جہاد کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوسکوں۔چنانچہ ان کی جگہ یزید بن ابی سفیان کو دمشق کا گورنر مقرر کیا گیا۔حضرت سعید نہایت نیک طبع اور مستغنی مزاج انسان تھے۔عقیق کی جاگیر پر گزر بسر تھی۔ایک