سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 157 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 157

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 157 حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور قبلہ رُو ہو کر سجدے میں گر گئے اور بہت لمبا سجدہ کیا۔یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے شاید آپ کی روح قبض کرلی ہے۔میں آپ کے قریب ہوا تو آپ اُٹھ بیٹھے اور پوچھا کون ہے؟ میں نے عرض کیا عبدالرحمن۔فرمایا کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ نے اتنا لمبا سجدہ کیا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح تو قبض نہیں کر لی۔آپ نے فرمایا میرے پاس جبریل آئے تھے انہوں نے مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ اللہ تعالیٰ آپ کے حق میں فرماتا ہے کہ جو آپ پر درود بھیجے گا میں اس پر اپنی رحمتیں نازل کرونگا اور جو آپ پر سلام بھیجے گا میں اس پر سلامتی بھیجوں گا۔یہ سن کر میں اللہ تعالیٰ کے حضور سجدۂ شکر بجالایا ہوں۔اکثر روزے رکھتے تھے۔بارہا حج کی توفیق پائی۔حضرت عمررؓ جس سال خلیفہ ہوئے اس سال انہوں نے آپ کو امیر حج مقرر فرمایا تھا۔(16) آپ نہایت ذہن رسا انسان تھے۔تجارت کے علاوہ زراعت کی طرف بھی توجہ فرمائی کیونکہ خیبر میں رسول اللہ نے ایک کثیر جا گیر آپ کو عطافرمائی تھی۔آپ نے نہ صرف اسے سنبھالا بلکہ بہت سی اور قابل زراعت زمین خرید کر اس میں بھی کاشت کروائی۔صرف ”جرف کی زمین میں ہیں اونٹ آبپاشی کیا کرتے تھے۔ازواج و اولاد آپ ہجرت کے وقت بیوی بچے مکے میں چھوڑ آئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے یکے بعد دیگرے بارہ بیویاں عطا کیں جن سے ۲ بیٹے اور ے بیٹیاں اولا د عطا ہوئی۔اسلام سے قبل ام کلثوم بنت ربیعہ اور ام کلثوم بنت عقبہ بن محیط سے نکاح کیا تھا۔آپ کی بیویوں میں قبیلہ کلب کے سردار کی بیٹی کے علاوہ غزال بنت کسری بھی تھیں جو ایران کے شاہی خاندان کسری کی شہزادی تھی مگر ان تمام تر نعمتوں اور آسائشوں کے باوجود حضرت عبدالرحمان بن عوف نے اپنا دامن کبھی دنیا سے آلودہ نہ ہونے دیا۔وفات سے قبل بے ہوشی سے افاقہ ہوا تو پوچھا کہ کیا مجھ پر غشی طاری ہوئی تھی بتایا گیا کہ ہاں تو فرمایا کہ میرے پاس دو فر شتے آئے ان میں کچھ پتی پائی جاتی تھی وہ مجھے لے کر چلے پھر دو اور فرشتے آئے جو زیادہ نرم اور رحم دل تھے۔انہوں نے پہلے دو سے پوچھا کہ اسے کہاں لے جاتے ہو انہوں