سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 135 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 135

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 135 حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ فاقہ کش لشکر کے لئے خوراک کا انتظام بھی آپ کی ذمہ داری تھی۔آپ نے تمام سپاہیوں کے پاس باقی مانده زادراہ اکٹھی کر کے راشن کی دو بوریاں اکٹھی کرلیں اور آئندہ کے لئے راشن کی تقسیم کا ایسا نظام جاری کیا کہ ہر سپاہی کو زندہ رہنے کے لئے کچھ نہ کچھ خوراک ملنے لگی۔صحابہ بیان کرتے ہیں کہ بعض ایسے دن بھی آئے جب روزانہ ایک شخص کو بمشکل ایک کھجور ملتی تھی۔جب ان سے پوچھا گیا کہ ایک کھجور کی قدر بھی ہمیں اس وقت آئی جب یہ اجتماعی زادراہ بھی ختم ہو گئی تو ہم نے درختوں کے پتے کھا کر گزارہ کیا اور جانوروں کی مینگنوں جیسا پاخانہ کرتے رہے۔تب ایسے معلوم ہوتا ہے کہ امین الامت ابو عبیدہ کی اس عادلانہ تقسیم اور دعاؤں نے خدا کی رحمت کو جوش دیا اور مولیٰ کریم نے ان فاقہ کشوں کی دعوت کا خودا اہتمام فرمایا اور سمندر کو حکم دیا کہ ایک بہت بڑی مچھلی راہ مولیٰ میں بھوک برداشت کرنے والوں کے لئے ساحل پر ڈال دے۔چنانچہ اس مچھلی کا گوشت اور تیل مسلسل کئی روز استعمال کرنے سے صحابہ کی صحت خوب اچھی ہو گئی۔تین صدا فراد کے لئے کئی روز تک خوراک بنے والی اس مچھلی کے متعلق طبعا سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کی جسامت کیا ہوگی۔حضرت ابوعبیدہ جیسے زیرک قائد نے اس الہی نشان کو محفوظ کرنے کا عمدہ انتظام بھی کر دیا۔انہوں نے ساحل چھوڑنے سے قبل مچھلی کے ڈھانچے سے دو پسلیاں لے کر زمین میں گاڑ دیں اور پیمائش کی خاطر ایک شتر سوار کو نیچے سے گزارا تو وہ بآسانی گزر گیا۔(14) الغرض اس سفر میں حضرت ابوعبیدہ کی قائدانہ صلاحتیں خوب نکھر کر سامنے آئیں۔عملی زندگی میں امانتوں کی ادائیگی میں یہ اہتمام ابو عبیدہ کے لئے مزید خدمات کے مواقع مہیا کرنے کا موجب ہوا۔چنانچہ اس کے بعد رسول کریم ﷺ نے حضرت ابو عبیدہ کو بہت اہم مالی ذمہ داریاں بھی تفویض فرمائیں۔اموال بحرین کی امانت 8 ہجری میں حکومت کسری ایران کی باجگزار ریاست بحرین سے مصالحت ہوئی۔حضرت علام بن حضرمی وہاں امیر مقرر ہوئے۔(15) حضرت ابو عبیدہ جزیہ کی امانتیں وصول کر کے مرکز اسلام مدینہ لانے کے لئے مامور ہوئے۔