سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 115
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 115 حضرت علی رضی اللہ عنہ مقررفرمایا اس دوران سورۃ برات نازل ہوئی۔جسے سورۃ تو یہ بھی کہتے ہیں۔رسول کریم نے حضرت علی کو ارشاد فرمایا کہ وہ حضور کی نمائندگی میں مکے جا کر سورۃ سنائیں اور اس کے احکام کا اعلان عام کردیں۔حضرت علیؓ نے اس کی تعمیل کی اور یہ آپ کی عظیم الشان سعادت تھی جو رسول اللہ ﷺ کی انتہائی قرابت کے علاوہ آپ کا دینی مرتبہ بھی خوب ظاہر کرتی ہے۔(23) یمن میں خدمات ۹ ہجری میں حج سے واپسی کے بعد نبی کریم ﷺ نے مختلف اطراف عرب میں تبلیغی مہمات روانہ فرمائیں۔حضرت براء بن عازب روایت کرتے ہیں کہ یمن کی طرف حضرت خالد بن ولید کو بھجوایا گیا میں انکے ہمراہ تھا۔چھ ماہ کی مسلسل کوشش کے بعد وہاں دعوت اسلام میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوئی۔اس کے بعد حضرت علیؓ کو رسول اللہ ﷺ نے روانہ فرمایا اور خالد کو واپس بلا لیا۔حضرت برا کہتے ہیں میں حضرت علی کے ساتھ رہا۔ہم یمن کے قریب پہنچے تو لوگ اکٹھے ہونے شروع ہو گئے۔حضرت علیؓ نے فجر کی نماز پڑھائی ، خطاب فرمایا رسول اللہ ﷺ کا پیغام پڑھ کر سنایا اور پورا قبیلہ ایک دن میں مسلمان ہو گیا۔حضرت علی نے رسول اللہ کی خدمت میں یہ لکھا حضور خوشی سے سجدہ میں گر گئے۔الغرض تھوڑے ہی عرصے میں رسول کریم ﷺ کے اس تربیت یافتہ داعی الی اللہ نے اپنی تدابیر کے نتیجے میں پورے عمان قبیلے کو مسلمان کر لیا۔یمن روانگی کے وقت حضرت علی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے قضا کے بارہ میں کچھ زیادہ علم نہیں۔رسول کریم ﷺ نے آپ کے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا اے اللہ ! اس کے دل کو ہدایت اور زبان کو سداد عطا کر۔حضرت علی کہتے ہیں اس کے بعد کبھی مجھے دو فریق کے تنازعہ میں کوئی شک پیدا نہیں ہوا۔(24) حجۃ الوداع میں شرکت حجۃ الوداع کے موقع پر حضرت علی یمن ہی سے مکہ تشریف لائے۔اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس یاد گار آخری حج میں شرکت کی سعادت پائی۔احرام باندھتے ہوئے آپ نے نیت بھی کیسی باندھی کہ جو نیت رسول اللہ علیہ کی ہے، اسی کے مطابق میں بھی احرام باندھتا ہوں۔رسول