سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 87
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 87 حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ میں جا کر ملاقات کی اور عرض کیا کہ دشمن کے ارادے آپ کے قتل کے ہیں آپ ہمیں مقابلہ کی اجازت دے دیں۔حضرت عثمان نے سختی سے ایک قطرہ خون بہانے سے بھی منع فرما دیا۔(28) شام کے گورنر حضرت معاویہؓ نے حفاظت کیلئے فوج بھجوانا چاہی تو اس کی بھی اجازت نہ دی۔گھر کے باہر سات سو اصحاب حضرت عبداللہ بن زبیر کی قیادت میں موجود تھے۔اگر حضرت عثمان ان کو اجازت دیتے تو وہ دشمن کا استیصال کر سکتے تھے۔ان میں حضرت عبداللہ بن عمر ، حضرت حسن بن علی بھی تھے۔حضرت عثمان نے واضح فرما دیا تھا کہ ” جو میری اطاعت کرتا ہے اسے عبد اللہ بن زبیر کی اطاعت کرنی ہوگی۔عبداللہ بن زبیر نے عرض کیا امیر المومنین! آپ کے پاس ایسی جماعت موجود ہے۔جسے اللہ کی تائید و نصرت حاصل ہے۔آپ مجھے باغیوں سے لڑائی کی اجازت دیں۔حضرت عثمان نے فرمایا میں اللہ کے نام پر تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ کسی ایک آدمی کا خون بھی میری وجہ سے نہیں ہونا چاہیے۔حضرت زید بن ثابت انصاری نے آکر عرض کیا کہ اے امیر المؤمنین ! انصار مدینہ دروازے پر حاضر ہیں۔اگر آپ حکم دیں تو ایک آواز پر دو دفعہ لبیک کہہ کر ہم اللہ کے مددگار بن کر دکھائیں گے۔حضرت عثمان نے فرمایا ”نہیں جنگ نہیں کرنی۔“ (29) صبر و استقامت حضرت عثمان خدا داد صبر وتحمل کا مجسمہ تھے۔دراصل وہ سمجھ گئے تھے کہ امت کو کشت وخون سے بچانے اور استحکام خلافت کے لئے انہیں اپنی جان کی قربانی دینی پڑے گی۔بالآخر انہوں نے یہ قربانی دے دی۔مگر ارشاد رسول ﷺ کے مطابق صبر کرتے ہوئے یہ ثابت کر دکھایا کہ ” خلیفہ معزول نہیں کیا جاسکتا۔“ (30) شہادت عثمان کا تذکرہ بہت دردناک ہے مرکز اسلام مدینہ منورہ میں اسلام کے اس عظیم الشان خلیفہ کو قرآن شریف کی تلاوت کرتے ہوئے حالت روزہ میں شہید کر دیا گیا۔آپ کے خون کے قطرے سورۃ بقرہ کی آیت (138) فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ پر پڑے۔جس کا مطلب ہے کہ اللہ خود ان لوگوں کیلئے کافی ہے اور وہ بہت سننے والا اور جاننے والا ہے۔بچاتے ہوئے آپ کی اہلیہ حضرت نائلہ کی انگلیاں بھی کٹ گئیں۔اور وفادار غلام اسود نے حملہ آوروں سے