سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 88
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 88 حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ لڑ کر جان دے دی۔حضرت عثمان کی شہادت دراصل ایک المی نقد رتھی۔(31) حضرت حسان بن ثابت کو حضرت عثمان سے بہت محبت تھی انہوں نے آپ کی شہادت پر مرثیہ لکھا جس میں کہا:۔ضَحُوا بِاشْمَطَ عَنْوانَ السُّجُودَ بِهِ يَقْطَعُ اللَّيْلَ تَسْبِيحَا وَقُرْآنًا صَبْرافِدَى لَكُم أُمِّي وَمَا وَلَدَتْ قَدْ يَنْفَعُ الصَّبْرُ فِي المَكْرُوهِ أَحْيَانًا (32) ظالموں نے ایک ایسے خوبصورت مرد کو قربان گاہ پر چڑھا دیا، جس کے ماتھے پر سجدوں کے نشان تھے اور جو رات عبادت اور قرآن پڑھنے میں گزار دیتا تھا۔اے محبان عثمان ! صبر کرو میری ماں اور اولاد تم پر قربان ہو۔کیونکہ اکثر نا پسندیدہ باتوں میں صبر ہی کام آتا ہے۔حضرت عثمان کی شہادت کے بعد ان کی الماری سے ایک مقفل صندوق میں ایک تحریر ملی جو آپ کے ایمان ویقین کی پختگی کو خوب ظاہر کرتی ہے۔یہ عثمان کی وصیت ہے۔اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔عثمان بن عفان گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔اور یہ کہ جنت حق ہے اور جہنم بھی حق ہے اور یہ کہ اللہ ان کو جو قبروں میں ہیں ایسے دن اٹھائے گا جس میں کوئی شک نہیں۔اللہ بھی اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔اسی (عقیدہ) پر (عثمان) زندرہ رہے اسی پر مرے گا اور اسی پر اٹھایا جائے گا اگر اللہ چاہے۔اسی تحریر کی پشت پر یہ اشعار درج تھے۔غِنَى النَّفْسِ يُعْنِي حَتَّى يُحِلَّهَا وَإِن غَضَّهَا حَتَّى يَضُرَّ بِهَا الْفَقرُ وَمَاعُسرة فاصبر لَهَا إِن لَقِيتَهَا بگائِنَةٍ إِلَّا سَيَتَبَعُهَا يُسر وَمَن لم يُقاسِ الدَّهْرَ لَم يَعرف الأسى وَفِي عِبر الأيَّامِ مَاوَعَدَ الدَّهر دل کی امارت انسانی نفس کو بے نیاز اور عظیم بنادیتی ہے خواہ فقر وغربت اس کی عظمت کو کم کرے یہاں تک کہ اسے اس سے نقصان پہنچے۔کسی آنے والی تنگی سے تیرا سامنا نہیں ہوگا مگر اس