سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 84
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 84 حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ قیام خلافت میں خدمات رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر کی بیعت کر کے ان کے ہاتھ مضبوط کئے۔حضرت عمر کی نامزدگی خلافت کا وصیت نامہ آپ نے تحریر فرمایا۔حضرت عمر نے اپنی آخری بیماری میں چھ صحابہ کی کمیٹی بنائی اس میں بھی آپ شامل تھے جو انہوں نے خلافت کے انتخاب کے لئے مقرر فرمائی اور جس نے خلیفہ کا انتخاب انہی چھ افراد میں سے کرنا تھا۔انتخاب خلافت اور پہلی تقریر 24ھ میں حضرت عمرؓ کی وفات کے بعد خلافت کے انتخاب کے موقع پر شورٹی کمیٹی کے سر براہ حضرت عبد الرحمن بن عوف کے فیصلہ کے مطابق حضرت عثمان خلیفہ منتخب ہوئے۔سب سے پہلے حضرت عبدالرحمان بن عوف نے بیعت کی۔پھر حضرت علی اور تمام صحابہ نے جوق در جوق بیعت کی۔اپنی پہلی مختصر تقریر میں فرمایا "اے لوگو! پہلے پہل جو کام کیا جائے وہ مشکل معلوم ہوتا ہے۔آج کے بعد اور دن بھی آنے ہیں اگر میں زندہ رہا تو حسب حال وضرورت تقریر کیا کروں گا۔بے شک مجھے تقریر کا ملکہ نہیں ہے مگر اللہ ہمیں سکھائے گا۔‘ (18) آخری خطاب میں ارشادات مسند خلافت پر بیٹھنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کی تقریر میں غیر معمولی تاثیر عطافرمائی۔اپنے گھر کے محاصرہ کے دوران آخری ایام میں جو خطبات آپ نے ارشاد فرمائے ، آج بھی ان کو سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔محاصرہ کرنے والوں کو مخاطب کر کے فرمایا:۔”اے میری قوم! مجھے قتل نہ کرو۔میں حاکم وقت اور تمہارا مسلمان بھائی ہوں اور خدا کی قسم ! میں نے ہمیشہ اپنی استطاعت کے مطابق اصلاح کا ہی ارادہ کیا خواہ اس میں مجھے غلطی لگی یا میں نے درست کیا۔اگر تم مجھے قتل کرو گے تو تمہاری وحدت پارہ پارہ ہو جائے گی اور نماز ، جہاد اور غنیمت کی منصفانہ تقسیم سے محروم ہو جاؤ گے۔“ آپ نے نہایت مؤثر اور فیصلہ کن وعظ کرتے ہوئے بڑے جلال سے فرمایا:۔