سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 83 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 83

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 83 حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور ہر حال میں آپ کا ساتھ دیا۔سفر حدیبیہ میں بھی ساتھ تھے۔رسول اللہ علیہ کی بصیرت نے جب یہ بھانپ لیا کہ قریش کی نیت لڑائی کی ہے اور وہ اس سال عمرہ کرنے نہیں دیں گے تو آپ نے حضرت عثمان کو ان کی خاندانی وجاہت و مرتبت کے باعث قریش کی طرف سفیر بنا کر مکہ بھجوایا۔حضرت عثمان کو وہاں رابطے کرنے اور گفت و شنید میں دیر ہوگئی۔اور کافی دیر تک ان کا کچھ حال معلوم نہ ہوا بلکہ یہ افواہ پھیل گئی کہ اہل مکہ نے ان کو شہید کر دیا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر اپنے چودہ صد (1400) اصحاب سے موت پر بیعت لی کہ ہم جان دے دیں گے مگر عثمان کے خون کا بدلہ لئے بغیر نہیں ملیں گے۔رسول خدا نے اس موقع پر حضرت عثمان کو عظیم الشان شرف عطا کیا کہ انہیں اس تاریخی بیعت میں شامل کرتے ہوئے آپ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھتے ہوئے فرمایا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔اور یوں آپ نے تمام اصحاب کی بیعت لی۔(15) یہ تاریخ ساز واقعہ بیعت رضوان کے نام سے معروف ہے کیونکہ اس بیعت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشنودی اور رضامندی کا اظہار قرآن شریف میں ہوا۔(سورۃ الفتح : 20) تبوک میں مالی قربانی 9 ھجری میں غزوہ تبوک پیش آیا۔مسلمانوں کو قیصر روم کے حملہ آور ہونے کی خبر پہنچی۔رسول کریم ﷺ نے تبوک کا سفر اختیار فرمایا تا کہ رومیوں کو ان کی سرحدوں پر ہی روک دیا جائے۔آپ نے جنگی ساز و سامان کے لئے مسلمانوں کو چندے کی تحریک کی اور فرمایا کہ ” جو شخص لشکر کی تیاری میں مدد کرے گا اور سامان جہاد مہیا کرے گا میں اسے جنت کی بشارت دیتا ہوں۔“ (16) حضرت عثمان ایک متمول تاجر تھے۔اس موقع پر وہ دیگر صحابہ سے مالی قربانی میں سبقت لے گئے۔انہوں نے ایک تہائی فوج کے جملہ اخراجات اپنے ذمے لے لیے ان کی تمام ضروریات پوری کیں اور تمہیں ہزار کی فوج میں سے دس ہزار مجاہدین کے لئے سامان جنگ مہیا کیا۔جس میں نوصد پچاس اونٹ پچاس گھوڑے اور دس ہزار درہم کی خطیر رقم شامل تھی۔رسول اللہ نے اس بر وقت امداد اور مالی قربانی سے اتنے خوش ہوئے کہ فرمایا ” آج کے بعد عثمان سکا کوئی عمل اُسے نقصان نہیں پہنچائے گا۔‘ (17) حجتہ الوداع میں بھی حضرت عثمان آنحضرت مہ کے شریک سفر تھے۔