سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 82 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 82

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ موقع پر اپنی اہلیہ حضرت رقیہ کی بیماری کے باعث حضرت عثمان رسول کریم ﷺ کی اجازت سے شریک جنگ نہ ہو سکے تھے جس کا آپ کو د لی قلق تھا۔لیکن چونکہ آپ رسول کریم ﷺ کے ارشاد کی تعمیل میں اپنی اہلیہ کی تیمارداری کے لئے مدینہ ٹھہرے تھے۔رسول اللہ ﷺ نے بدر سے واپسی پر فرمایا کہ اے عثمان آپ کو شرکت کا اجر بھی ملے گا اور مال غنیمت سے حصہ بھی۔‘ (12) صاحبزادی ام کلثوم سے شادی حضرت رقیہ اس بیماری سے جانبر نہ ہوسکیں ان کے انتقال پر ملال پر حضرت عثمان افسردہ خاطر تھے کہ آپ کا رشتہ مصاہرت خاندانِ رسالت سے نہیں رہا۔تب رسول خدا ﷺ نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم کا نکاح آپ سے کر دیا۔حضرت عثمان کے اہل خانہ سے حسن سلوک اور آپ کی وفا کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ جب حضرت ام کلثوم کی وفات ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر میری کوئی تیسری بیٹی بھی ہوتی تو میں وہ بھی عثمان سے بیاہ دیتا۔غزوہ ذات الرقاع اور غزوہ نجد کے موقع پر رسول کریم ﷺ نے حضرت عثمان کو مدینہ میں اپنا جانشین مقررفرمایا تھا۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنے دامادوں کیلئے اور جن کا میں داماد ہوا، ان کیلئے اللہ سے دعا کی ہے کہ ان میں سے کسی کو آگ میں داخل نہ کرے۔“ (13) کاتب وحی حضرت عثمان کو رسول اللہ علیہ کے کاتب وحی ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔ایک دفعہ رسول کریم ﷺ کے ساتھ ایک گھر میں مہاجرین کی مجلس تھی۔ابوبکر وعمر عثمان علی، طلحہ زبیر عبد الرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص موجود تھے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہر شخص اپنے اپنے ساتھی کے ہمراہ کھڑا ہو۔خود رسول اللہ علیہ حضرت عثمان کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور فرمایا ” آپ دنیا و آخرت میں میرے دوست ہو۔“ (14) حدیبیہ میں شرکت حضرت عثمان غزوہ بدر کے بعد دیگر تمام غزوات میں بھی رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب رہے