سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 522 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 522

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 522 حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ باقی پتھر بھی شکستہ ہو گیا۔حضرت سلمان نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ کی ہر ضرب پر میں نے دیکھا کہ ایک شعلہ بلند ہوا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے سلمان ! کیا تم نے بھی دیکھا تھا ؟ حضرت سلمان نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے یہ نظارہ دیکھا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب میں نے پہلی ضرب لگائی تو مجھے لئے کسری شاہ ایران کے کئی شہروں کا نظارہ کروایا گیا یہاں تک کہ میں نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔موجود صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ دعا کریں اللہ تعالیٰ ہماری زندگیوں میں یہ فتوحات عطا کرے اور ان ممالک کے اموال غنیمت ہمارے حصہ میں آئیں۔آپ نے یہ دعا کی۔پھر میں نے دوسری ضرب لگائی تو قیصر شاہ روم کے شہروں کا نظاہ مجھے کروایا گیا اور میں نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔صحابہ نے پھر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ آپ دعا کریں اللہ تعالیٰ ہمارے ذریعہ یہ فتوحات عطا فرمائے۔رسول اللہ ﷺ نے پھر دعا کی۔پھر میں نے تیسری بار ضرب لگائی تو میرے سامنے ملک حبشہ کے شہر اور اردگرد کی بستیاں دکھائی گئیں۔میں نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔دوسری روایت میں یہ بھی ذکر ہے کہ ہر ضرب کے ساتھ رسول اللہ علیہ نے بھی نعرہ تکبیر بلند کیا اور صحابہ نے بھی آپ کے ساتھ نعرے لگائے۔(7) چنانچہ بعد کے زمانے میں حضرت سلمان نے یہ پیشگوئیاں اپنی آنکھوں سے پوری ہوتی دیکھیں ایرانی فتوحات کے زمانہ میں آپ نے اسلامی لشکر کے امیر کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔ابوالبختری بیان کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے ایک لشکر کے امیر حضرت سلمان فارسی تھے۔انہوں نے ایک ایرانی قلعہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔لوگوں نے کہا آپ ان پر حملہ کیوں نہیں کرتے۔آپ نے فرمایا کہ انہیں میرے پاس بلاؤ تا کہ میں انہیں اس طرح دعوت دوں جس طرح رسول اللہ علی پہلے دعوت اسلام دیا کرتے تھے۔حضرت سلمان نے انہیں نہایت خوش اسلوبی سے دعوت دیتے ہوئے کہا کہ دیکھو میں تم میں سے ایک فارسی شخص ہوں اور تم دیکھ رہے ہو کہ عرب میری اطاعت کرتے ہیں اگر تم مسلمان ہو جاتے