سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 523 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 523

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 523 حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہو تو تمہارے حق ہمارے اوپر اور ہمارے حق تمہارے اوپر ہو نگے۔دوسری صورت یہ ہے کہ اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے جزیہ ادا کرو۔حضرت سلمان نے فارسی زبان میں بھی ان سے خطاب کیا اور کہا یہ آخری صورت قابل تعریف نہیں کہ ہم تم سے جنگ کریں۔پھر بھی جب انہوں نے کوئی بات نہ مانی تو تین دن تک مسلسل یہی دعوت دیتے رہے بالآخر مجبوراً حملہ کرنا پڑا اور اس محل اور قلعہ کو ختم کرلیا۔(8) عدل و اعتدال حضرت سلمان فارسی کے قبول اسلام کے بعد رسول کریم ﷺ نے ان کی مواخات حضرت ابو دردانہ سے قائم فرمائی۔جب انکے گھر گئے تو دیکھا کہ ان کی بیوی نے برا حال بنا رکھا ہے۔سبب پوچھا تو کہنے لگیں تمہارے بھائی کی دنیا سے بے رغبتی نے اس حال پر پہنچایا ہے۔وہ دن کو روزہ رکھتے ہیں اور رات بھر عبادت کرتے ہیں۔حضرت سلمان نے اپنے اس دینی بھائی کو اعتدال پر لانے کی تجویز کی۔ابودردار ہم نے جب اپنے اس مہمان بھائی کو کھانا پیش کیا تو حضرت سلمان نے انہیں بھی ساتھ شامل ہونے کو کہا۔انہوں نے بتایا کہ وہ نفلی روزے سے ہیں۔حضرت سلمان نے کہا کہ میں بھی کھانا نہ کھاؤں گا جب تک آپ افطار نہ کریں۔بے شک آپ ایک دن روزہ رکھیں اور ایک دن افطار کر لیں۔حضرت ابو درداء عبادت کیلئے کھڑے ہونے لگے تو حضرت سلمان بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا آپ رات کا ایک حصہ سوئیں اور پھر نماز پڑیں۔حضرت سلمان نے رسول کریم م سے جاکر عرض کیا تو حضور نے فرمایا سلمان ٹھیک کہتے ہیں۔تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے، بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔دوست اور مہمان کا بھی تم پر حق ہے پس ہر حق دار کو اس کا حق دو۔دوسری روایت میں ہے کہ حضور نے فرمایا سلمان تم سے زیادہ سمجھدار اور دین کی گہرائی سے واقف ہے۔(9) علم و فضل حضرت سلمان نے اپنے تحقیقی سفروں اور علماء کی صحبت میں توریت کا بھی مطالعہ کیا تھا۔وہ