سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 489
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 489 حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کر دیکھیں کہ آیا انہوں نے دل سے کلمہ پڑھا ہے یا نہیں، بلکہ ان کا یہ کلمہ قبول کر کے تمام اسلامی حقوق ادا کرنے ہیں اور اگر ان سے حالت جنگ میں ہوں تو اپنی تلوار میں روک کر اُن سے لڑائی ختم کر دینی ہے، کجا یہ کہ کسی کلمہ گو کے ساتھ لڑائی یا جنگ کا سلسلہ شروع کیا جائے۔(12) حضرت جابڑ کی دیگر کثیر روایات میں رسول کریم کے ساتھ سفر و حضر کے متعدد واقعات و حالات ہیں۔آداب معاشرت ، بیع و شراء کے آداب اور حضور کی بے تکلف مجالس کے تذکرے! جابڑ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضور نے ایک سفر میں فرمایا کہ کالی کالی پہیلوں تو ڑ کر لاؤ یہ بڑی میٹھی ہوتی ہیں، کہتے ہیں میں نے حضور سے کہا آپ کو بھی کیسے یہ پتہ ہے تو حضور نے فرمایا کہ ہاں میں نے بھی جنگل میں بکریاں چرائی ہیں۔ہم نے پوچھایا رسول اللہ آپ نے کب بکریاں چرائی تھیں؟ آپ نے فرمایا کہ نبی بھی تو چروا ہے ہی ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہر نبی سے یہ کام کروایا ہے۔گویا جن سے دنیا کی اور لوگوں کی نگرانی کا کام لینا ہوتا ہے اُن سے تجربہ کے طور پر اللہ تعالیٰ یہ کام بھی لے لیتا ہے۔قیام خلافت کے بارہ میں یہ روایت بھی حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ رسول کریم عہ نے فرمایا ” میرے معاً بعد خلفاء ہونگے خلفاء کے بعد امراء اور ان کے بعد بادشاہ اور ان کے بعد جابر اور ظالم حکمران۔ان کے بعد میرے اہل بیت سے ایک شخص ہوگا جو زمین کو عدل سے بھر دے گا۔آخری عمر میں حضرت جابر نا بینا ہو گئے تھے۔94 سال کی عمر میں آپ کی وفات ہوئی۔آپ مدینہ میں فوت ہونے والے آخری صحابی تھے۔(13) آپ کی زندگی کا خلاصہ دولفظوں میں عشقِ رسول اور اتباع سنت ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس پاکیزہ اسوۃ پر چلنے کی تو فیق عطا فرمائے۔آمین