سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 488
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 488 حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ والوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور فرماتے کہ اس طریق سے پڑھنا درست ہے۔یہ گویا قرآن شریف پڑھنے کی ترغیب اور سہولت کی تعلیم تھی۔حضرت جابر وتر پڑھنے کے وقت سے متعلق ایک اہم روایت بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ابو بکر سے آنحضرت ﷺ نے پوچھا کہ آپ وتر رات کے پہلے حصے میں پڑھ لیتے ہو یا آخری حصہ میں حضرت ابو بکڑ نے بتایا کہ میں تو پہلے حصہ میں پڑھ لیتا ہوں۔حضرت عمر نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں تو آخری حصہ میں پڑھتا ہوں اس پر فرمایا کہ ابو بکرہ پختہ بات کے عادی ہیں اور حضرت عمر تو گل کرنے والے ہیں۔یوں دونوں اصحاب کا طریق اپنے اپنے رنگ میں آنحضور ﷺ نے سراہا ہے۔حضرت جابڑ کی ایک روایت میں ادا ئیگی قرض کی تلقین کا ذکر ہے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک موقع پر ایک صحابی پر دو دینار کا قرض تھا۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں تو اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھاؤں گا۔ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ میں وہ دینا ر اپنے ذمہ لیتا ہوں تب آنحضرت علی نے وہ جنازہ پڑھایا۔بعد میں اگلے دن اس صحابی سے پوچھا کہ وہ جو دو دینا ر اپنے ذمہ لئے تھے وہ قرض ادا بھی کر دیا کہ نہیں ؟ اس سے ادا ئیگی قرض کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔حضرت جابر نے دین میں جبر وا کراہ کی نفی کے بارے میں بھی ایک بہت عمدہ روایت بیان کی ہے کہ آنحضرت ﷺ فرماتے تھے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جن لوگوں کے ساتھ ہماری جنگ شروع ہو چکی ہے ان سے یہ جنگ اس وقت ختم ہو جائے گی جب وہ کلمہ پڑھ کر لَا اللهُ إِلَّا اللہ کہ دیں گے گویا کلمہ پڑھ لینا ہماری تلواروں کو روک دے گا۔یہ فیصلہ ہمارا کام نہیں کہ وہ کلمہ دل سے پڑھ رہے ہیں یا محض زبان سے بلکہ فرمایا کہ کلمہ پڑھنے کے نتیجے میں ان کے یہ حقوق قائم ہو جائیں گے اور وہ اپنے خون اور اموال ہم سے بچالیں گے اور پھر ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔اللہ کے ساتھ ان کا معاملہ ہے کہ صدق دل سے کلمہ پڑھا ہے یا پھر حضور ﷺ قرآن شریف کی یہ آیت پڑھا کرتے تھے إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرَةٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَّيْطِرٍ ( الغاشیہ:22 ) کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہی تعلیم ہے ”ہم نے تو نصیحت کرتے چلے جانا ہے، اپنا پیغام پہنچاتے چلے جانا ہے۔آگے وہ لوگ نصیحت پکڑتے ہیں یا نہیں۔ہمیں ان پر نگران یا داروغہ بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ ان کے دلوں کو چیر