سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 484
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 484 حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھ کر پہلے مدینہ پہنچ جاؤں حضور پہلے تو شفقت بھری باتیں کرنے لگے پھر فرمایا کہو شادی کہاں کی ہے۔کنواری سے کی ہے یا بیوہ سے؟ حضرت جابر نے بتایا کہ بیوہ سے شادی کی ہے آپ نے انہیں چھیڑتے ہوئے فرمایا ہاں تمہیں کنواری عورتوں سے کیا غرض ؟ پھر فرمایا میاں ! تم اس نو عمری میں کنواری لڑکی سے شادی کرتے ایک دوسرے سے ہنس کھیل بیٹھتے۔بیوہ سے کیوں شادی کر لی؟ حضرت جابڑ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے گھر میں تو بہنیں بھی تھیں جن کی کفالت میرے سپرد ہے میں نے سوچا اگر ان جیسی ایک اور نا تجربہ کار لڑکی بیاہ کر لے آؤں گا تو اور مشکل میں نہ پڑ جاؤں اس لئے ایک تجربہ کارعورت کو لے آیا ہوں جو ان کا خیال رکھے گی کنگھی پٹی کرے گی اور میرا گھر بھی سنبھالے گی۔حضور نے فرمایا اچھا اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالے، اب آنحضور ﷺ نے غیور حضرت جابڑ کی مدد کسی تحفہ کی صورت میں کرنا چاہی۔پیار و محبت بھری باتیں کرتے ہوئے فرمایا جا برا چھا بتاؤ یہ اونٹ جواڑیل سا ہے، چلتا بھی نہیں مجھے بیچتے ہو۔جابڑ کہتے ہیں جب وہ اونٹ رک گیا تھا تو میں نے اس سے تنگ آکر یہاں تک سوچا تھا کہ اس اونٹ کو یہیں چھوڑے جاتا ہوں پھر جب وہ کچھ چلنے لگا تو میں نے کہا کہ چلو اب تو اس کو لے کر جانا ہی ہو گا۔اب حضور نے فروخت کرنے کا پوچھا تو میں نے کہا یا رسول اللہ میں اس کو بیچ ہی دیتا ہوں فرمایا ” کتنے میں بیچو گے؟ پھر خود ہی دل لگی کرتے ہوئے فرمانے لگے ایک درہم میں بیچتے ہو؟ حضرت جابر نے کہا کہ حضور صرف ایک درہم؟ (اس زمانے میں اونٹ مہنگے ہوتے تھے اور درہم ایک روپیہ ہی تھا) جابر نے کہا نہیں ایک درہم تو کچھ بھی نہ ہوا۔آپ نے فرمایا ” یہ اونٹ چلتا تو تھا نہیں ایک درہم ہی کافی ہے پھر فرمایا ” چلو دو درہم ہی لے لو اچھا تین درہم لے لو۔کیوں اپنے اس صحابی سے محبت پیار بھرے انداز میں دل لگی کرتے کرتے کہا اچھا تم ہی بتاؤ کیا لو گے؟ تو جابر نے کہا کہ میں تو کم از کم اس کا ایک اوقیہ یعنی چالیس درہم لوں گا فرمانے لگے ٹو ایک اوقیہ ! اس اونٹ کی قیمت ایک اوقیہ ؟ “ یہ بھی کوئی اونٹ ہے چلتا تھا نہیں۔ہے بھی پانی ڈھونے والا جانور ! اور قیمت پوچھو تو ایک اوقیہ ! پھر فرمانے لگے اچھا اب تم نے مانگا ہے تو ایک اوقیہ ہی سہی۔میں یہ قیمت دے دوں گا۔حضرت جابر کہتے ہیں کہ میں بہت خوش ہوا۔اونٹ سے اتر آیا اور اس کی مہار حضور کو تھما دی کہ لیجئے اب یہ آپ کا ہوا۔آپ نے فرمایا ! نہیں نہیں تم اس پر سوار ہو کر مدینہ تک جا