سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 465
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 465 حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ یعنی یہ دشمن ہیں جنہوں نے ہم پر زیادتی کی ہے اور فتنہ وفساد کا ارادہ کیا ہے۔جس کا ہم ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور عمدہ دفاع سے فتنہ کو کچل دیں گے۔(7) اس کے بعد مختلف غزوات میں عبداللہ بن رواحہ شامل ہوتے رہے۔7 ہجری میں عمرہ القضاء ہوا۔حدیبیہ کے مقام پر روکے جانے کی وجہ سے مسلمان عمرہ نہ کر سکے تھے۔حسب معاہدہ اس سال انہوں نے اس کی توفیق پائی۔آنحضرت ﷺے جب اپنے صحابہ کے ساتھ طواف کعبہ کیلئے تشریف لے گئے تو یہ موقع مسلمانوں کیلئے بڑا جذباتی تھا کہ سات سال تک خانہ کعبہ سے روکے جانے کے بعد آج وہ آزادی سے خدا کے گھر داخل ہو رہے تھے اور خانہ کعبہ کا طواف کر کے دلی تمناؤں کو پورا کر رہے تھے اس موقع پر شاعر دربار نبوی حضرت عبد اللہ بن رواحہ آنحضرت ﷺ کی اونٹنی کی مہار تھامے ہوئے آگے آگے تھے اور بڑے جوش اور جذبے کے ساتھ اپنی رزمیہ شاعری کے یہ شعر پڑھ رہے تھے۔خَلُو بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيْلِهِ خَلُو فَإِنَّ الْخَيْرَ مَعَ رَسُولِهِ یعنی اسے کفار مکہ آج آنحضرت ﷺ کے راستے کو خالی کر دو۔ہاں آپ کے رستے سے ہٹ جاؤ کیونکہ تمام خیر و بھلائی خدا کے رسول کے ساتھ ہے۔قَدْ اَنْزَلَ الرَّحْمَنُ فِي تَنْزِيلِهِ ضَربَا يُزِيلُ الهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ یعنی اسے کفار یا درکھو کہ رحمان خدا نے اپنے پاک کلام میں ہمیں یہ خبر دی ہے کہ ایسی جنگ سے تمہاری گردن زدنی اور ہلاکت تمھارے ساتھ پیش آنے والی ہے جس کے نتیجہ میں اس دن دوست دوستوں کو بھول جائیں گے۔حضرت عبد اللہ بن رواحہ بڑے جوش وجذبہ سے یہ اشعار پڑھ رہے تھے کہ حضرت عمرؓ نے ان کو روکا اور کہا کہ اے ابن رواحہ یہ اللہ کا حرم ہے اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے آپ ایسے جو شیلے شعر پڑھ رہے ہو۔آنحضرت ﷺ بھی یہ اشعار سن رہے تھے آپ نے فرمایا اے عمر ! عبداللہ کو یہ اشعار پڑھنے دو۔خدا کی قسم ! آج عبد اللہ بن رواحہ کا یہ کلام ان کفار کے دلوں میں نشتر سے بھی زیادہ تیزی