سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 459
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 459 حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ پڑھانے کے لئے اپنے خیمہ سے باہر آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ابوایوب انصاری تلوار سونتے مستعد کھڑے ہیں۔آپ نے پوچھا ابو ایوب! کیا بات ہے۔عرض کی جان سے عزیز آقا! صفیہ کے عزیز اور رشتہ دار ہمارے ہاتھوں قتل ہوئے تھے، اس وجہ سے رسول اللہ علیہ کی حفاظت کے خیال سے مرے دل میں کئی اندیشے اور وسو سے اٹھتے تھے۔اس لئے میں آج ساری رات حضور کے خیمہ کا پہرہ دیتا رہا ہوں۔(7) محسن عالم کے دل سے اس وقت اپنے اس عاشق صادق کے لئے ساری رات حفاظت کرنے کے عوض جو دعانکلی وہ یتھی "اے اللہ ! ابوایوب کو ہمیشہ اپنی حفاظت اور امان میں رکھنا جس طرح رات بھر یہ میری حفاظت پر مستعد رہے ہیں اور یہ دعا ایسی قبول ہوئی کہ ابو ایوب نے طویل عمر پائی اور آپ کا مزار آج تک قائم و دائم اور مرجع خلائق ہے۔خلفاء راشدین کے زمانہ میں بھی ابوایوب جہاد میں شامل ہوتے رہے۔حضرت علی نے کوفہ کو دارالخلافہ بنایا تو حضرت ابوایوب کو مدینہ میں امیر مقر فرمایا اور پوچھا کہ مانگیں کیا مانگتے ہیں انہوں نے کہا میری ضرورت کے مطابق چار ہزار درہم وظیفہ اور آٹھ غلام کافی ہیں۔حضرت علیؓ نے اس سے چار گنا وظیفہ میں ہزار اور چالیس غلام عطا فرمائے۔(8) صحابہ کرام بھی ابو ایوب کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔عم زا درسول حضرت ابن عباس حضرت علی کی طرف سے بصرہ کے گورنر تھے۔آپ ان کی ملاقات کے لئے تشریف لے گئے۔ابن عباس نے کہا میں چاہتا ہوں کہ جس طرح آپ نے رسول اللہ کے لئے اپنا گھر خالی کر دیا تھا۔اپنا گھر آپ کے لئے پیش کر دوں۔یہ کہ کر وہ اور ان کے گھر والے وہاں سے دوسرے مکان میں منتقل ہو گئے اور بھرا بھرا یا مکان مع سامان ان کے حوالے کر دیا۔(9) جنگ قسطنطنیہ میں شرکت حضرت امیر معاویہ کے زمانہ میں آپ جنگ روم میں شامل ہوئے۔رسول اللہ ﷺ نے قسطنطنیہ کی فتح کی خبر دی تھی۔یہ فدائی صحابی اس خوشخبری کو بچشم خود دیکھنے کے متمنی تھے۔غرضیکہ پیرانہ سالی میں اس جہاد میں بھی شمولیت فرمائی۔اس سفر میں آپ بیمار ہو گئے۔اس وقت یزید فوجوں کی