سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 448 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 448

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 448 حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شامل ہوتے۔بدر میں حضور کے ساتھ شریک تھے۔اُس کے بعد جب یہود بنو قینقاع کی طرف سے بدعہدی ظاہر ہوئی اور مدینہ سے انکے اخراج کا معاملہ سامنے آیا ، تو آنحضرت علیہ نے یہ نہایت نازک ذمہ داری حضرت محمد بن مسلمہ کے سپر دفرمائی۔اور انہوں نے بنو قینقاع کی جلاوطنی اور اس ضمن میں اموال کی وصولی کی تمام ذمہ داریاں احسن رنگ میں ادا کیں۔اس کے بعد یہود بنو نضیر اور بنو قریظہ کے سرداروں کی بعض ریشہ دوانیوں قتل کے منصوبوں اور دیگر سازشوں کو کچلنے کے لئے انہوں نے غیر معمولی اہم خدمات انجام دیں۔یہودی سردار کعب بن الاشرف کی طرف سے جب عہد شکنی ، بغاوت تحریک جنگ، فتنہ پردازی بخش گوئی اور سازش قتل کے الزامات پائیہ ثبوت کو پہنچ گئے تو نبی کریم ﷺ نے حاکم مدینہ کے طور پر کعب کو سزا دینے کا فیصلہ فرمایا جو سزائے موت سے کم نہ ہو سکتی تھی۔(4) رسول کریم ﷺ نے ازراہ حکمت مدینہ کے مخصوص حالات کی وجہ سے کعب کے باضابطہ اعلان قتل سے احتراز کیا تا کہ مدینہ خانہ جنگی اور کشت و خون سے بچ جائے۔یہ نازک اور اہم ذمہ داری خاموشی سے ادا کرنے کے لئے نبی کریم ﷺ نے حضرت محمد بن مسلمہ کو مقررفرمایا۔انہوں نے عرض کیا کہ اس مقصد کے حصول کے لئے انہیں کوئی عذر تر اشنا پڑے گا تا کہ مجرم کو گھر سے نکال کر کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔نبی کریم ﷺ نے وسیع تر قومی وسیاسی مفاد کے پیش نظر اس کی اجازت دی۔محمد بن مسلمہ نے ابونائلہ اور دو تین اصحاب کے ساتھ کعب کے مکان پر جا کر کچھ قرض کا مطالبہ کیا کہ نبی کریم ہ ہم سے صدقہ کا تقاضا کرتے ہیں۔اس نے کہا کہ ابھی تو تم اور بیزار ہو کر اسے ترک کرو گے۔محمد بن مسلمہ نے کہا اب تو ان کی پیروی کی ہے تو دیکھنا ہے کہ کیا انجام ہوتا ہے مگر تم بتاؤ قرض دو گے یا نہیں؟ اس نے اپنی طبعی شرارت سے بطور ضمانت عورتیں یا بیٹے رہن رکھنے کا مطالبہ کیا۔آخر طے پایا کہ ہتھیار رہن رکھے جائیں اور محمد بن مسلمہ رات کا وعدہ کر کے واپس آگئے۔یوں انہیں کعب کے ڈیرے پر کھلے عام ہتھیار لے جانے کی اجازت مل گئی۔شام کو یہ پارٹی ہتھیار سے مسلح ہوکر وہاں پہنچی اور محمد بن مسلمہ اور ان کے ساتھیوں نے کعب کا کام تمام کر دیا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اس کی اطلاع کر دی۔(5)