سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 31 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 31

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 31 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آنحضور نے فرمایا ” جتنا فائدہ مجھے ابو بکر کے مال نے دیا اتنا کسی کے مال نے نہیں دیا۔(78) محنت کی کمائی اور رزق حلال کا اتنا خیال تھا کہ خلافت کے دوسرے ہی روز کپڑوں کی گھڑی اٹھا کر روزی کمانے چلے تو راستہ میں بعض جلیل القدر صحابہ ملے۔انہوں نے کہا اب آپ کا خرچ بیت المال ادا کرے گا۔آپ قومی ذمہ داریوں کو سنبھالیں۔(79) خدمت خلق حضرت ابو بکر میں خدمت خلق کا جذ بہ بھی کمال کا تھا۔خلافت سے قبل آپ مدینہ میں اپنے محلہ کے گھروں کی بکریوں کا دودھ دوہ کر دیا کرتے تھے۔جب خلیفہ ہوئے تو قبیلہ کی ایک کم سن لڑکی کہنے لگی اب ہماری بکریاں کون دوہا کرے گا؟ حضرت ابو بکر کو پتہ چلا تو فرمایا ” میں ہی تمہاری بکریاں دو ہوں گا۔اللہ تعالیٰ نے جو منصب مجھے عطا فرمایا ہے اس سے میرے اخلاق تبدیل نہیں ہوں گے۔بلکہ مزید خدمتوں کی توفیق پاؤں گا۔چنانچہ خلیفہ بننے کے بعد بھی آپ قبیلہ کی بکریاں دوہ دیا کرتے تھے اور وہ لونڈی جس طرح کہتی اس کے مطابق یہ خدمت بخوشی انجام دیتے۔(80) حضرت عمر مدینہ کی ایک نابینا عورت کی خبر گیری فرمانے گئے وہاں آکر دیکھا کہ کوئی دوسرا آدمی پہلے آکر اس کے کام کر جاتا تھا۔ایک دفعہ پہلے آکر چھپ کر بیٹھ گئے تو دیکھا کہ حضرت ابو بکر خلیفۃ الرسول ﷺے پوشیدہ طور پر اس بڑھیا کی خدمت کرتے اور اس کے کام سرانجام دیا کرتے تھے۔حضرت عمرؓ نے انہیں دیکھ کر کہا ” آپ ہی ایسے آدمی ہو سکتے تھے (81) حضرت ابوبکر حقوق اللہ اور حقوق العباد ہر پہلو سے تمام نیکیوں کے جامع وجود تھے۔ایک دن نبی کریم نے صحابہ کی تربیت کی خاطر ان کا محاسبہ کرتے ہوئے پوچھا کہ آج اپنے کسی بیمار بھائی کی عیادت کس نے کی؟ حضرت ابو بکر نے عرض کیا انہیں اس کی توفیق ملی ہے۔پھر فرمایا آج نفلی روزہ کس نے رکھا ہے؟ پتہ چلا کہ حضرت ابو بکر روزہ سے ہیں۔پھر آپ نے صدقہ دینے اور مسکین کو کھانا کھلانے کے بارہ میں سوال کیا۔حضرت ابو بکر نے عرض کیا کہ انہوں نے اس کی بھی توفیق پائی ہے۔پھر حضور نے کسی مسلمان بھائی کی نماز جنازہ پڑھنے کے بارے میں پوچھا تو حضرت ابوبکر نے بتایا کہ میں نے نماز جنازہ میں بھی شرکت کی ہے۔اس پر نبی کریم نے فرمایا کہ جس شخص نے ایک دن میں یہ