سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 429
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 429 حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ مناسب بچہ تلاش کرو جو ہمارے گھر کے کام کاج کر دیا کرے۔میرے والد ابوطلحہ نے مجھے اپنی سواری کے پیچھے بٹھایا اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کر کے عرض کیا کہ حضور انس بہت سمجھدار لڑکا ہے یہ آپ کے کام کاج سنبھال لے گا۔حضرت انس " کہتے ہیں کہ اس وقت سے مجھے نبی کریم کی خدمت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی اور غزوہ خیبر سے واپسی تک میں یہ خدمت انجام دیتا رہا۔(3) نبی کریم ﷺ کے اس خاندان سے قربت و محبت کے گہرے مراسم قائم ہوئے۔ابوطلحہ اور ام سلیم دونوں میاں بیوی دل و جان سے اپنے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی ﷺ پر فدا اور آپ کی خدمات میں پیش پیش رہتے تھے۔حضور علیہ کے گھر شادی وغیرہ کے موقع پر ام سلیم انتظام و انصرام اپنے ذمہ لے لیتی تھیں۔حضرت صفیہ کی شادی کے موقع پر بھی انہیں تیار کرنے کی خدمت ام سلیم بجالائیں۔حضرت زینب کی شادی کے موقع پر حضرت ام سلیم نے دعوت ولیمہ کے لئے کھانا اپنے گھر سے تیار کر کے بطور تحفہ بھجوایا۔(4) حضرت ابوطلحہ بھی اپنی مخلص اور فدائی بیوی کی طرح ہر دم ہر قربانی کیلئے مستعد ہوتے تھے۔عرض کرتے تھے کہ اے خدا کے رسول اللہ ! اپنی ضروریات و حاجات کے سلسلہ میں مجھے خدمت کا موقع عطافرمایا کریں اور جو حکم چاہیں ارشاد فرما ئیں آپ مجھے ہمیشہ ہر کام کیلئے مضبوط اور قوی پائیں گے۔(5) رسول اللہ ﷺ کی شفقتیں چنانچہ حضور نے مختلف مواقع پر اس خاندان کو خدمت کے مواقع عطا فرمائے۔ایک دفعہ مدینہ میں رات کو اچانک کچھ شور بلند ہوا۔اس زمانہ میں بیرونی دشمن سے بھی خطرات درپیش تھے۔نبی کریم ﷺ نے مدینہ کے گردو نواح کا فوری جائزہ لینے کا ارادہ فرمایا اور ابوطلحہ کے گھر جا کر ان کا گھوڑا مندوب نامی عاریتہ لیا، جلدی میں اس کی نگی پشت پر زین ڈالنے کی زحمت بھی گوارا نہ فرمائی۔واپس آکر فر مایا کہ خطرے کی کوئی بات نہیں اور ابوطلحہ کے گھوڑے کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے اسے بہنے والے دریا کی طرح تیز رفتار اور رواں پایا ہے۔ابوطلحہ کا یہ گھوڑا اٹریل تھا مگر اس کے بعد نبی کریم ﷺ کی برکت سے ایسا تیز ہوا کہ کوئی گھوڑا دوڑ میں اس کا مقابلہ نہ کر سکتا تھا۔(6)