سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 428
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نام و نسب 428 حضرت ابوطلحہ انصاری حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نام زید بن سہل تھا، مدینہ کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار سے تعلق تھا، نام سے زیادہ کنیت بوطلحہ سے مشہور ہیں۔مدینہ کے رئیس تھے۔زبر دست تیرانداز ، ماہر شکاری اور بہت بہادر انسان تھے۔مشہور انصاری خاتون حضرت ام سلیم بنت ملحان کے شوہر تھے۔(1) قبول اسلام آپ کے قبول اسلام کا واقعہ بھی بہت دلچسپ ہے۔مدینہ میں اسلام کا پیغام پہنچا تو ام سلیم نے جو مدینہ کی معزز اور عقلمند خاتون تھیں بے دھڑک اسلام قبول کر لیا۔ان کے شوہر مالک اس پر ناراض ہو کر مدینہ سے چلے گئے۔کچھ عرصہ بعد ابوطلحہ نے انہیں شادی کا پیغام بھیجا۔ام سلیم نے جواب دیا کہ ابوطلحہ جیسے عظیم انسان کا پیغام رو تو نہیں کیا جاسکتا مگر ہمارے درمیان کفر و اسلام کا اختلاف شادی میں مانع ہے۔ہاں اگر ابوطلحہ اسلام قبول کر لیں تو میں ان کے مسلمان ہونے کی خوشی میں اپنا مہر بھی چھوڑ دوں گی اور ابوطلحہ کے قبول اسلام کو ہی اپنا مہر سمجھوں گی۔چنانچہ ابوطلحہ نے اسلام قبول کر کے ام سلیم سے شادی کر لی۔حضرت ثابت کہا کرتے تھے کہ میں نے آج تک کسی عورت کے بارہ میں نہیں سنا کہ اس کا مہر ایسا قابل عزت ہو جیسا کہ ام سلیم کا مہر تھا۔(2) دین کی خاطر کی جانے والی یہ شادی بہت با برکت ثابت ہوئی اور اس گھرانے نے اخلاص اور ایمان میں ایک غیر معمولی ترقی کی۔میاں بیوی اسلام کی خدمات میں ایک دوسرے سے سبقت لینے لگے۔اپنے آقا حضرت محمد مصطفی علیہ کے ساتھ اخلاص و فدائیت کے عجیب اور حیرت انگیز نمونے ان سے دیکھنے میں آئے اور آپ کی ایسی بے تکلفی اس گھرانے کے ساتھ ہوئی کہ حضور ﷺ ان کے گھر کو اپنا ہی گھر سمجھتے اور اپنی ذاتی ضروریات کیلئے بلاتر دڈ انہیں یا دفرمایا کرتے تھے۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم جب مدینہ تشریف لائے تو ابوطلحہ کو فرمایا کہ کوئی ایسا