سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 421
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 421 حضرت معاذ بن جبل انصاری رضی اللہ عنہ خطرات دور رکھنا، خواہ ان کا تعلق جنوں سے ہو خواہ انسانوں کے شرور سے ہو، ان تمام شرور سے ان کو بچانا۔“ ادھر اہل یمن کو رسول اللہ ﷺ نے یہ پیغام بھجوایا کہ اے اہل یمن میں نے اپنے اہل میں سے نہایت ہی عمدہ اور بہترین شخص تمہارے پاس بھیجا ہے۔علمی و عملی اور دینی لحاظ سے بھی یہ ایک بہترین مربی ہے۔(12) تقویٰ اور خشیت الہی حضرت معاذ بن جبل حضرت ابو بکر کے زمانے میں بھی یمن کے حاکم تھے ، حضرت ابو بکر کی خلافت کے زمانہ میں پہلے سال حضرت عمر کو امیر الحاج بنا کر مکہ بھجوایا گیا اور یمن سے حضرت معاذ بھی حج کرنے کیلئے تشریف لائے تو ان کے ساتھ کچھ ان کے غلام بھی تھے، حضرت عمر نے پوچھ لیا کہ یہ غلام کیسے ہیں؟ حضرت معاذ نے عرض کیا کہ یہ مجھے تحفہ میں ملے ہیں یہ میرے غلام ہیں، حضرت عمرؓ نے مشورہ دیا کہ خلیفہ وقت حضرت ابوبکر کے سامنے یہ غلام پیش کر کے اور اجازت لے کر ان غلاموں کو اپنے تصرف میں لانا۔حضرت معاذ نے کہا کہ آنحضور ﷺ نے مجھے ہدیہ قبول کرنے کی اجازت دی تھی اور بطور ہدیہ ہی یہ غلام مجھے ملے ہیں اسلئے میں اس میں کوئی عیب نہیں سمجھتا۔لیکن اگلے روز انہوں نے ایک عجیب خواب دیکھی ، جس کی بناء پر حضرت عمر سے کہا کہ میں آپ کے مشورہ پر ہی عمل کروں گا ، رویا میں انہوں نے دیکھا کہ وہ پانی میں ڈوب رہے ہیں اور حضرت عمرؓ انہیں اس میں سے کھینچ رہے ہیں۔“ چنانچہ حضرت عمر ان کے ساتھ حضرت ابوبکر کی خدمت میں حاضر ہوئے۔معاذ نے عرض کیا کہ یہ میرے غلام ہیں جو مجھے ہدیہ میں ملے میں ان سے دستبردار ہوتا ہوں۔“ حضرت ابوبکر نے فرمایا آپ ان سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔آنحضرت ﷺ نے آپ کو ہدیہ وصول کرنے کی اجازت دی تھی۔اس لئے میری طرف سے بھی اجازت ہے اور اب یہ غلام آپ کے ہیں۔حضرت معاذ بن جبل کا کمال تقویٰ اور خشیت یہ تھی کہ آپ نے غلاموں کے ساتھ جا کر نماز ادا کی۔نماز پڑھنے کے بعد ان سے پوچھا کہ بتاؤ تم کس کی نماز پڑھتے ہو۔انہوں نے کہا اللہ کی نماز پڑھتے ہیں آپ نے فرمایا " پھر جاؤ اس اللہ کی خاطر میں تمہیں آزاد کرتا ہوں۔‘ (13)