سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 418
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 418 حضرت معاذ بن جبل انصاری رضی اللہ عنہ عرض کیا یا رسول اللہ جو کچھ ہم بولتے ہیں کیا اس کی وجہ سے بھی مؤاخذہ ہوگا۔حضور نے فرمایا اے معاذ اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے کئی لوگ ہیں جو اس زبان کی وجہ سے جہنم کی آگ میں داخل کئے جائیں گے۔آنحضرت ﷺ نے حضرت معاذ کی تربیت کرتے ہوئے مختلف مواقع پر آپ کو اسلام کے احکام یاد کروائے۔کچھ دعائیں یاد کروائیں۔ایک اور موقع پر دس ہدایات ان کو دی ہیں کہ ان باتوں کو یا درکھنا اور مراد یہ تھی کہ رفتہ رفتہ ان کی تربیت ہوتی چلی جائے۔اسلام کے احکام اور شرعی امور کو یاد کرتے چلے جائیں۔نبی کریم ﷺ اخلاقی لحاظ سے نہایت عمدہ اور پاک تعلیم آپ کو دیتے رہے۔ایک موقع پر فرمایا کہ اے معاذ برائی کے بعد ہمیشہ نیکی کرو۔برائی کے اثر کو یہ بات زائل کر دیتی ہے۔ایک موقع پر فرمایا کہ " اے معاذ! ہمیشہ مظلوم کی دعا سے بچنا کیونکہ اس کے اور خدا کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔‘(6) ایک اور موقع پر جماعت سے اور نظام سے منسلک رہنے کے بارہ میں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اے معاذ! انسان کا بھیٹر یا شیطان ہوتا ہے اور جس طرح ریوڑ سے کوئی بھیڑ ا الگ ہو جائے تو بھیٹر یا اس پر حملہ کرتا ہے اور چیر پھاڑ کے رکھ دیتا ہے اسی طرح وہ انسان جو جماعت سے الگ ہو جاتا ہے شیطان وہ بھیڑیا ہے جو اسے ہلاک کر دیتا ہے اور تباہ و برباد کر دیتا ہے۔اسی لیے ہمیشہ جماعت کے ساتھ رہنا اور کبھی جماعت سے الگ نہ ہونا۔‘ ایک موقع پر دعوت الی اللہ کے بارہ میں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اے معاذ ! اگر ایک مشرک کو اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے سے مسلمان کر دے تو یہ دنیا کی تمام نعمتوں سے تمہارے لئے بڑھ کر ہے۔“ (7) شفقت رسول علی و حسن سلوک آنحضرت ﷺ نے جہاں حضرت معاذ کے ساتھ محبت اور پیار کے تعلق میں یہ ہمدردی فرمائی کہ حسن تعلیم اور حسن تربیت سے انہیں آراستہ و پیراستہ کیا وہاں ان کے ساتھ ظاہری رنگ میں بھی جس حد تک ممکن تھا ان کیلئے ان سے ہمدردی فرمائی ہے۔حضرت معاذ بن جبل کے مالی حالات کچھ اچھے نہیں تھے۔ایک وقت میں ان پر بہت زیادہ