سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 411 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 411

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 411 حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ لوگ واقعی کثرت سے سوال کرتے اور تنگ کر دیتے ہیں۔میں اس سے بچنے کے لئے نصیحت کر رہا تھا۔پھر فرمانے لگے جہاں تک تمہاری یہ شکایت ہے تم لوگ علم دین کے لئے آتے ہو۔تمہارا خیال نہیں رکھا جاتا۔میں یہ عہد کرتا ہوں کہ آئندہ جمعہ تک اگر میں زندہ رہا تو ضرور اس بارے میں وعظ کروں گا۔آنحضور کی باتیں لوگوں کو بتاؤں گا۔اس واقعہ سے حضرت ابی کے تعلق باللہ کا اندازہ ہوتا ہے۔اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے انہیں سفر آخرت کا کوئی اشارہ مل چکا تھا۔جندب کہتے ہیں کہ میں اگلے جمعہ کا انتظار کرنے لگا۔مگر جمعرات کے دن مدینہ کی گلیوں میں اچانک ہجوم دیکھ کر میں نے پوچھا کہ کیا بات ہے لوگوں نے کہا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ مسلمانوں کا سردار ابی بن کعب آج فوت ہو گیا ہے۔یہ حضرت عثمان کی خلافت کا زمانہ تھا۔انہوں نے ہی حضرت ابی کی نماز جنازہ پڑھائی۔(35) اور یوں قرآن کا ایک عظیم قاری، ایک بے بدل عالم ، ہاں ایک عالم با عمل ایک عاشق رسول اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔حضرت ابی کی وفات کے بارہ میں ایک روایت یہ ہے کہ 20 ھ میں حضرت عمرؓ کے زمانہ میں انتقال ہوا، لیکن درست روایت 30 کی سمجھی جاتی ہے کیونکہ آپ کے شاگردز ربن جیش نے حضرت عثمان کی خلافت کے زمانہ میں ان سے ملاقات کا ذکر کیا ہے۔(36) دوسرے حضرت عثمان کے زمانہ میں بھی آپ کو حضرت حفصہ کے پاس موجود اولین مستند قرآنی نسخہ کی مزید نقول تیار کرنے کی توفیق ملی۔اس لحاظ سے اس زمانہ میں ان کی وفات والی روایت ہی زیادہ صحیح ہے۔(37) اللہ تعالیٰ ہمیں ان بزرگ صحابہ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین