سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 393 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 393

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 393 حضرت عمرو بن جموح انصاری رضی اللہ عنہ فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الْعَلِيِّ ذِي الْمِنَنِ الْوَاهِبِ الرِّزْقِ وَ دَيَّانِ الدِينِ پس اس احسان کرنے والے بلند و برتر اللہ کی میں تعریف کرتا ہوں جو رزق عطا کرنے والا اور انصاف کرنے والا ہے۔(2) انصار میں سب سے آخر میں اسلام قبول کرنے والے عمرو بن جموح تھے لیکن بعد میں آکر وہ کئی پہلوں سے سبقت لے گئے۔اور آنحضرت ﷺ اور اسلام کے ساتھ محبت میں بہت بڑھ گئے۔رسول کریم ﷺ سے تو انہیں ایک عشق تھا۔آپ کی ذاتی خدمات وہ بڑے شوق اور محبت سے بجا لاتے تھے۔چنانچہ مدینہ کے ابتدائی دور ہجرت میں ہونے والی حضور علی کی شادیوں کے مواقع پر دلی محبت کے ساتھ آپ اپنی طرف سے دعوت ولیمہ کا اہتمام کرتے تھے۔اپنے نسبتی بھائی حضرت عبداللہ بن عمرو کی طرح حضرت عمر و بن الجموح کو بھی غیر معمولی شوق جہاد تھا۔شہادت کی تمنا شہادت کی تمنا آپ کے دل میں موجزن تھی۔ایک دفعہ عمرو بن جموح آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے پاؤں میں تکلیف کی وجہ سے وہ لنگڑا کر چلا کرتے تھے مگر دل جوان تھا جس میں شہادت کی تمنائیں ہر وقت مچلتی رہتی تھیں۔عرض کیا یا رسول اللہ اگر میں خدا تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید کیا جاؤں تو کیا میں اپنے اس لنگڑے پاؤں کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ آنحضرت نے فرمایا ”ہاں میں یہ امید کرتا ہوں کہ تمھیں اللہ تعالیٰ جنت میں مقام عطا فرمائے گا۔پھر احد کے دن یہ شہید ہو گئے۔ان کے نسبتی بھائی عبداللہ بن عمرو اور ان کے ایک آزاد کردہ غلام نے بھی جام شہادت نوش کیا۔آنحضرت جب عمرو کی نعش کے پاس سے گذرے تو فرمایا اے عمرو میں تجھے جنت میں اپنے صحیح پاؤں کے ساتھ چلتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔پس حضرت عمرو نے اپنی جسمانی معذوری کے باوجود قربانی کا ایک عجیب نمونہ بعد میں آنے والوں کیلئے چھوڑا۔قرآن شریف میں معذوروں کیلئے جہاد سے رخصت ہے مگر عمر و آنحضرت سے بار بار عرض کر کے جہاد میں شامل ہونے کی اجازت لے رہے تھے۔بیٹے معذوری کی وجہ سے روکتے تھے مگر یہ کہتے کہ نہیں میں اس جہاد میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔یہ وہ سچا جذبہ ہے جہاد کا جو آج بھی ہر دل میں موجزن ہونا چاہیے۔چنانچہ جس