سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 392
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 392 حضرت عمرو بن جموح انصاری رضی اللہ عنہ بیٹے کا باپ کو تبلیغ توحید کا انوکھا طریق حضرت عمرو بن جموح کے قبول اسلام کا قصہ بھی بہت ہی دلچسپ اور عجیب ہے۔آغاز میں یہ مشرک اور بت پرست تھے اور اپنے گھر میں ہی لکڑی کا ایک بت بنا کر اسے منات کا نام دے رکھا تھا اور اس کی بڑی تعظیم اور پاک صاف رکھتے تھے۔بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر بنوسلمہ کے بعض نوجوانوں نے بیعت کی، ان میں حضرت معاذ بن جبل بھی تھے۔خود حضرت عمرو کے بیٹے معاذ نے بھی بیعت کرلی تھی۔انہوں نے اپنے والد عمرو کو اسلام کی طرف دعوت دینے کی عجیب راہ نکالی۔انہوں نے تدبیر یہ کی کہ حضرت عمرو کا وہ بت جسے انہوں نے اپنے گھر میں سجا رکھا تھا ، رات کو اسے وہاں سے اٹھا کر محلہ کے کوڑے کے گڑھے میں پھینک دیتے تھے۔عمر ڈ دوبارہ اسے تلاش کر کے اپنے گھر میں لے آتے اور کہتے کہ اگر مجھے اس شخص کا پتہ چل جائے جو میرے بت کے ساتھ یہ سلوک کرتا ہے تو میں اسے عبرت ناک سزا دوں۔اگلے دن پھر ان نو جوانوں نے اس بت کے ساتھ وہی سلوک کیا، وہ پھر گڑھے میں الٹا پڑا تھا۔عمرو پھر اسے اٹھا لائے۔تیسرے دن پھر اس بت کو صاف ستھرا کر کے سجا کے رکھا۔ساتھ ہی اپنی تلوار بھی رکھ دی اور بت کو مخاطب کر کے کہا کہ خدا کی قسم مجھے نہیں پتہ کہ کون تمھارے ساتھ یہ حرکتیں کرتا ہے لیکن اب میں تلوار بھی تمھارے ساتھ چھوڑے جا رہا ہوں۔اب اپنی حفاظت خود کر لینا۔اگلے دن جب پھر عمرو نے دیکھا کہ بت اپنی جگہ موجود نہیں اور پھر محلہ کے اس گڑھے کے اندر ایک مردہ کتے کے گلے میں وہ بت بندھا پڑامل گیا۔عمر و یہ دیکھ کر بہت سٹ پٹائے اور سخت پریشان ہوکر یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ وہ بت جسے میں نے خدا بنا کر رکھا ہوا ہے اس میں تو اتنی قدرت اور طاقت بھی نہیں کہ تلوار پاس ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو بچا سکے اس نے میری کیا حفاظت کرنی ہے؟ اور طرفہ یہ ایک مردہ کتا اس کے گلے میں پڑا ہوا ہے۔پھر یہ خدا کیسے ہو سکتا ہے اور یہی بات ان کے قبول اسلام کا موجب ہوگئی۔چنانچہ اس موقع پر اس بت کو مخاطب کر کے انہوں نے جو اشعار کہے اس سے انکی اندرونی کیفیت خوب ظاہر ہوتی ہے۔نَا اللَّهِ لَوْ كُنتَ الَهَا لَمْ تَكُنُ أَنْتَ وَكَلْبٌ وَسُطَ بِشِرِ فِي قَرَنْ اے بت !خدا کی قسم اگر تم واقعی سچے خدا ہوتے تو پھر یہ تو نہ ہوتا کہ تم ایک مردہ کتے کے گلے میں بندھے ایک گڑھے میں یوں پڑے ہوتے۔