سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 391
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نام و نسب 391 حضرت عمرو بن جموح انصاری رضی اللہ عنہ حضرت عمرو بن جموح انصاری حضرت عمرو بن جموح انصار کے قبیلہ بنی بشم بن خزرج سے تعلق رکھتے تھے انہیں عقبہ کے موقع پر بیعت کرنے کی سعادت عطا ہوئی۔بدر میں بھی شریک ہوئے ایک موقع پر نبی کریم ﷺ نے انہیں قبیلہ بنوسلمہ کا سردار مقررفرمایا۔کیونکہ یہ بڑے سخی شخص تھے۔اس کی تقریب کچھ یوں پیش آئی کہ انصار کے قبیلہ بن سلمہ کے کچھ لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضور ﷺ نے پوچھا کہ تمھارا سردار کون ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ ہمارا سر دار تو جد بن قیس ہے مگر وہ ہے بڑا بخیل۔حضور ﷺ نے فرمایا " بخل سے بری تو کوئی بیماری نہیں۔تمہارا سر دار تو عمرو بن جموع جیسا شخص ہونا چاہیے جو بہت ہی سخی انسان ہے“ حضور کا یہ اشارہ ہی وفا شعار انصار کیلئے عمرو بن جموع کی سرداری کا پروانہ ثابت ہوا۔تب سے حضرت عمرو بن جموع بالاتفاق اپنے قبیلہ کے سردار مانے گئے چنانچہ انصار کا شاعر یوں نغمہ سرا ہوا۔وَقَالَ رَسُولُ اللهِ وَالْحَقُّ قَولُه لِمَنْ قَالَ مِنَّا مَن تَسَمُّونَ سَيِّدِاً یعنی خدا کے رسول نے کیا ہی بیچ فرمایا تھا جب آپ نے ہم سے پوچھا کہ تمہارا سر دار کون ہے؟ فَسُودَعَمُرُو بْنُ الْجُمُوحِ لِجُودِهِ وَحَقٌّ لِعَمُرِو بِالنَّدَى أَن يُسَوَّدَا پھر عمرو بن جموح کو ان کی سخاوت کے باعث سردار مقررکیا گیا اور اپنی سخاوت اور جو دوسخا کی وجہ سے عمر وہی اس بات کے مستحق تھے کہ وہ سردار بنائے جاتے۔پھر ان کی سخاوت کا حال یوں کیا ہے۔(1) إِذَا جَاءهُ السُّوَّالِ اَذْهَبَ مَالَهُ وَقَالَ خُذُوهُ إِنَّهُ عَائِدٌ غَداً ان کے پاس جب کوئی سوال کرنے والا آتا ہے۔وہ اپنے مال کو خدا کی راہ میں لٹا دیتے اور اس سائل کی ضرورت پوری کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مال لے جاؤ کہ یہ تو کل پھر لوٹ کر ہمارے پاس واپس آنے والا ہے۔