سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 376 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 376

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 376 حضرت اسید بن حضیر انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ کے ارشاد کی روشنی میں ہمیشہ یہ کیفیتیں طاری رہ ہی نہیں سکتیں ورنہ انسان فرشتے ہی ہو جا ئیں مگر یہ کیفیتیں جس شخص کے اندر پائی جاتی ہوں اس کے مقام کا اندازہ اس روایت سے خوب ہوتا ہے۔یہاں حضرت اسیڈ کے کمال انکسار کا اظہار بھی ہے کہ اپنی تمام خوبیوں کے باوجود کہتے ہیں کہ اگر یہ حالتیں مستقل ہوتیں تو پھر میں اپنے آپ کو اہل جنت میں سے شمار کرتا۔حالانکہ ایسی اعلیٰ عارضی روحانی کیفیت والے شخص کے جنتی ہونے میں بھی کیا شبہ باقی رہ جاتا ہے۔حضرت اسید کی ایک اور خصوصیت عبادت اور نماز سے گہری محبت ہے۔آپ اپنے محلے کی مسجد کے امام تھے۔بیماری میں بھی نماز چھوڑ نا آپ کیلئے دو بھر ہوتا تھا۔بعض دفعہ ایسی بیماری بھی ہوئی کہ کھڑے ہوکر نماز پڑھنا مشکل تھا مگر پھر بھی نماز کیلئے مسجد حاضر ہوتے تھے اور نماز با جماعت کا ثواب نہ چھوڑتے تھے۔کشفی نظارے حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے تھے کہ اسید بن حضیر ہم میں سب سے زیادہ خوش الحانی سے قرآن شریف کی تلاوت کرنے والے تھے۔حضرت اسید صاحب کشف انسان بھی تھے۔ایک دفعہ انہوں نے اپنا یہ واقعہ بنی کریم کو سنایا کہ میں تہجد کی نماز میں سورۃ بقرۃ کی تلاوت کر رہا تھا۔قریب ہی ہمارا گھوڑا بندھا تھا پاس ہی میرا بیٹا سکی سویا ہوا تھا۔جب میں قرآن شریف کی تلاوت کرنے لگا تو اچانک میرا گھوڑ ابد کنے لگا میں خاموش ہوا تو گھوڑا بھی رک گیا۔پھر جب میں بلند آواز سے تلاوت کرتا تو وہ بدکنے لگتا۔میں نے غور کیا تو پتہ چلا کہ گھوڑا کوئی چیز آسمان پر دیکھ کر بدکتا ہے۔میں اس ڈر سے کہ گھوڑے کے بدکنے سے اس کی لات میرے پاس سوئے بیٹے کو نہ لگ جائے ، تلاوت کرنے سے رک جاتا تھا۔آنحضرت فرمانے لگے کہ اے اسید بن حضیر تجھے تلاوت جاری رکھنی چاہیے تھی انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے تلاوت جاری رکھی۔کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے ایک سائبان ہے اور اس میں روشنیاں اور قمقمے ہیں مگر مجبوراً مجھے تلاوت اسلئے روکنی پڑی کہ گھوڑے کے بدکنے کی وجہ سے کہیں میرے بچے کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔رسول کریم نے فرمایا کہ اے اسید بن حضیر یہ تو فرشتے تھے جو خوش الحانی سے تمہاری تلاوت قرآن سن کر قریب آگئے تھے اور انہوں نے چراغوں اور قمقوں کا روپ دھار لیا تھا اگر تم قرآن شریف کی