سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 375
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 375 حضرت اسید بن حضیر انصاری رضی اللہ عنہ حضرت اسید انحضرت ﷺ کے ساتھ کسی مہم پر تھے کہ بعد میں حضرت اسید بن حضیر کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا۔واپسی پر جب ہم مدینے کے قریب ذوالحلیفہ مقام پر پہنچے تو مدینہ سے آنے والے بعض بچوں نے حضرت اسید کو یہ اطلاع دی کہ آپ کی اہلیہ وفات پاگئی ہیں بلاشبہ یہ ایک اچانک اور نا گہانی صدمہ تھا۔حضرت اسید کپڑے سے چہرہ ڈھانپ کر رونے لگے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں میں نے انہیں ڈھارس بندھائی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو معاف کرے، آپ تو آنحضرت کے بزرگ صحابہ اور اولین بیعت کر نیوالوں میں سے ہیں۔ایک عورت کی وفات پر آپ اس طرح رور ہے ہیں۔اس پر انہوں نے فوراً اپنے چہرے سے کپڑا ہٹا لیا اور کہنے لگے میری عمر کی قسم یقینا آپ نے سچی بات کہی ہے۔ہمارا بھائی سعد بن معاذ عظیم سردار تھا اس کی وفات پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ آج سعد کی وفات پر عرش جھوم اٹھا ہے اس کی وفات کے بعد واقعہ کسی اور کی موت پر رونا بالکل بے سود ہے۔حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ اس وقت ہمارے ساتھ اس سفر میں واپس تشریف لا رہے تھے اور یہ ساری باتیں سن رہے تھے اور حضرت اسید حضور کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔(5) روحانی مقام حضرت عائشہ فرماتی تھیں کہ حضرت اسید کہا کرتے تھے کہ میری تین حالتیں ایسی ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک حالت بھی مجھ پر طاری رہے تو میں لازماً اپنے آپکو اہل جنت میں سے شمار کروں اور اسمیں مجھے ذرہ برابر بھی شک نہ ہو۔پہلی یہ کہ جب میں قرآن شریف کی تلاوت کروں یا کوئی اور تلاوت کرے اور میں سن رہا ہوں تو اس وقت مجھے پر خشیت کی جو حالت طاری ہوتی ہے اگر وہ ہمیشہ رہے تو میں اپنے آپ کو جنتیوں میں سے شمار کروں۔دوسرے جب نبی کریم علیہ خطبہ ارشاد فرماتے ہیں اور میں انتہائی توجہ سے حضور ﷺ کا وہ وعظ سنتا ہوں تو اس وقت میری جو حالت ہوتی ہے اگر وہ دائم ہو جائے تو میں لازماً جنتیوں میں سے ہو جاؤں۔تیسرے جب میں کسی جنازے میں شامل ہوں تو میری یہ حالت ہوتی ہے کہ گویا یہ جنازہ میرا ہے اور ابھی مجھ سے پرسش ہورہی ہے اگر یہ کیفیت بھی ہر دم رہے تو لازماً میں اپنے آپ کو جنتیوں میں سے شمار کروں۔(6) اس بیان سے حضرت اسید کی خدا خوفی اور خشیت الہی کا اندازہ ہوتا ہے۔یہ اور بات ہے کہ