سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 22
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 22 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے اور اپنی پیشانی کے نور سے پہچانے جاتے تھے۔محمد مصطفی علیہ سے تعلق بہت مضبوط تھا۔آپ کی روح خیر الوریٰ کی روح سے ملی ہوئی تھی اور اس نور سے ڈھکی ہوئی تھی جس نور نے آپ کے پیشوا اور خدا تعالیٰ کے محبوب کو ڈھانپ رکھا تھا۔آپ آنحضور علے کے نور اور آپ کے عظیم فیوض میں نہاں تھے اور آپ فہم قرآن اور سید الرسل ونفخر بنی نوع انسان کی محبت میں سب لوگوں پر فوقیت لے گئے تھے۔جب آپ پر اخروی زندگی کا مضمون اور دیگر سر بستہ راز کھلے تو آپ نے تمام دنیوی تعلقات کو خیر باد کہہ دیا۔جسمانی رشتوں سے الگ ہو گئے اور محبوب کے رنگ میں رنگین ہو گئے۔آپ نے خدائے یگانہ کی خاطر جو زندگی کا مقصد حقیقی ہے اپنی ہر چاہت کو چھوڑ دیا۔آپ کی روح نفسانی آلائشوں سے ہر طرح مبرا، ذات حق کے رنگ میں رنگین اور رضائے رب العالمین میں محو ہوگئی۔جب کچی محبت الہی آپ کے نس نس میں ، آپ کے دل کی گہرائی اور روح کے ذرے ذرے میں گھر کر گئی اور اس محبت کے انوار اور آپ کے اقوال وافعال اور نشست و برخاست میں ظاہر ہوئے تو آپ کو صدیق کا خطاب ملا اور جناب خیر الواحبین کے دربار سے گہرا اور تازہ بتازہ علم عطا ہوا۔چنانچہ سچ آپ کی ذات میں راسخ ملکہ اور فطرت اور عادت ہو گیا جس کے انوار آپ کی شخصیت کے ہر قول وفعل ، ہر حرکت وسکون اور حواس و انفاس سے ظاہر ہوئے اور آپ کو آسمانوں اور زمین کے رب کی طرف سے منعم عليهم لوگوں میں شامل کیا گیا۔آپ کتاب نبوت کے کامل پر تو تھے اور اہل جو دوسخا کے امام تھے اور آپ کا خمیر انبیاء کی بقیہ مٹی سے اٹھایا گیا تھا۔“ (50) اخلاق وسیرت حضرت ابوبکر نہایت متواضع ، منکسر المزاج اور کم گو انسان تھے۔آپ کی بہت کم روایات احادیث کی کتب میں آئی ہیں، تاہم جتنی روایات ہیں ان سے آپ کے اعلیٰ کردار اور پاکیزہ سیرت پر خوب روشنی پڑتی ہے۔طبعا کم گو ہونے اور ادب رسول کے تقاضہ کے پیش نظر آپ شاذ ہی نبی کریم سے کوئی سوال کرتے تھے۔مگر جو سوال آپ نے کئے وہ بھی آپ کے بلند علمی مقام اور اعلیٰ سیرت وکردار کو ظاہر کرتے ہیں۔توحید کا عرفان