سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 335
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 335 حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ خباب کہنے لگے مجھے تکلیف اتنی زیادہ ہے کہ دل کرتا ہے کہ موت ہی آجائے لیکن میں نے آنحضرت سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ موت کی تمنا نہ کرو گویا آخری وقت میں رسول اللہ ﷺ کے فرمان کی تعمیل کی طرف توجہ تھی۔پھر کہنے لگے میرا کفن لے کر آؤ اور مجھے دکھاؤ اور جب دکھایا گیا تو وہ اس زمانے کے عمدہ کپڑے خباطی کا کفن تھا اس کو دیکھ کر رو پڑے انکسار سے کہنے لگے اتنا اچھا اور عمدہ کفن مجھے دو گے؟ رسول اللہ ﷺ کے چا حضرت حمزہ شہید احد کو محض ایک چادر کفن کیلئے میسر آئی تھی جس سے ان کے پاؤں ڈھانپتے تو سرنگا ہو جاتا۔سرڈھانپتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے۔تب ہم نے رسول اللہ ﷺ کی ہدایت پر پاؤں کو گھاس ڈال کر ڈھانک دیا اور یوں حضرت حمزہ کو پورا کفن نصیب نہ ہوا۔رسول کریم کے زمانے میں میں ایک دینار یا درہم کا بھی مالک نہیں تھا اور آج رسول اللہ ﷺ کے فیض کی برکت سے میرے گھر کے ایک کونے کے صندوق میں ہی چالیس ہزار درہم موجود ہیں۔مجھے بہت ڈر لگتا ہے کہ کہ ہمارے اعمال کی جزا کہیں اسی دنیا میں تو نہیں مل گئی اور کہیں آخری زندگی میں ہم اپنے اجروں سے محروم نہ کر دئے جائیں۔“ اسی آخری بیماری میں بعض صحابہ ان کی عیادت کیلئے تشریف لے گئے۔انہوں نے دیکھا کہ خباب شاید اس بیماری سے جانبر نہ ہو سکیں تو ایک رنگ میں انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا اے خباب تمہیں بشارت ہو کہ کل یا پرسوں اپنے بزرگ اصحاب رسول سے جاملو گے۔اس پر وہ رو پڑے جب طبیعت سنبھلی تو کہنے لگے ”یہ مت خیال کرنا کہ میں موت کے خوف سے رویا ہوں۔خدا کی قسم ! تم نے میرے ایسے گروہ اور ساتھیوں کا ذکر کیا جن کا بھائی مجھے قرار دیا ان صحابہ کا تو بہت بلند مقام مرتبہ تھا پتہ نہیں میں ان کا بھائی ہونے کا اہل بھی ہوں یا نہیں؟ اور ہمیں اس دنیا میں جوا جر عطا کر دئے گئے وہ لوگ تو اس زمانے سے بہت پہلے گزر گئے انہوں نے دنیا کے بہت زیادہ مال و متاع سے فائدے نہیں اٹھائے جو ہم نے اٹھائے ہیں۔یہ وہ خشیت اور تقویٰ کا مضمون ہے جس کی آنحضرت عیے نے ان کو نصیحت فرمائی تھی اور انہوں نے اسے خوب پلے باندھا اور آخری دم تک اسے سینے سے لگائے رکھا۔(7)