سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 19
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 19 حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ یہ قوم کیسے کامیاب ہوگی جس نے ایک عورت کو حاکم بنالیا ہے۔“ (42) عراق کا علاقہ ایرانیوں کا باجگزار تھا اور ایرانی ان عرب قبائل پر حکومت کرتے تھے۔ایرانیوں کی کمزوری کے بعد ان علاقوں میں طوائف الملوکی کا سلسلہ شروع ہو گیا جس پر وہ قابو پانے کی کوشش میں تھے۔عراق کے ایک سردار شنی بن حارثہ جو مسلمان ہو چکے تھے اور ایرانیوں کا تختہ مشق رہ چکے تھے۔انہوں نے حضرت ابو بکر سے مدد مانگی تا ایرانیوں کے حملے سے بچا جا سکے۔چنانچہ خالد بن ولید کو ان کی مدد کیلئے بھیجا گیا اور یوں فتوحات ایران کا سلسلہ شروع ہوا۔کہاں رسول اللہ کی وفات پر مسلمانوں کی جان پر بن آئی تھی کہ اسلام اور مدینہ کا کیا بنے گا ؟ اور کہاں خلافت کی برکت سے دنیا کی دو بڑی حکومتوں کے ساتھ ٹکر کے بعد اسلام کی فتح کے سامان ہونے لگے۔حضرت ابوبکر کے دور خلافت میں ان دونوں بڑے محاذوں پر کام شروع ہو گیا۔ایران میں حضرت خالد نے پہلے حیرہ فتح کیا۔پھر جنگ ذات السلاسل ہوئی جس میں ایرانی جرنیل ہرمز کو شکست فاش ہوئی اور اس کی وہ قیمتی ٹوپی مال غنیمت میں آئی جس کی مالیت ایک لاکھ درہم تھی۔حضرت ابو بکر نے اعزاز کے طور پر وہ ٹوپی حضرت خالد کو دے دی۔اس کے علاوہ بہت زیادہ مال غنیمت ہاتھ آیا۔پھر جنگ مزار ہوئی۔یہاں جو مال غنیمت ہاتھ آیا اس میں ہاتھی بھی شامل تھا سے مدینہ بھجوایا گیا۔مدینے کے لوگ بڑے تعجب سے اسے دیکھتے تھے کیونکہ انہوں نے پہلی دفعہ ہاتھی دیکھا تھا۔پھر جنگ وجہ ہوئی جس میں تمہیں ہزار ایرانی قتل یا غرق دریا ہوئے۔پھر جنگ الیس ہوئی۔جس میں نصرانیوں کا امیرانیوں کے ساتھ اتحاد تھا اور سب مل کر اسلام کے مٹانے کے لئے مسلمانوں پر حملہ آور تھے۔اس میں ستر ہزار ایرانی اور نصرانی کام آئے۔مسلمانوں نے پہلی دفعہ وہاں سفید آٹے کی روٹیاں حیرانی سے دیکھیں کہ یہ سفید کپڑوں کے ٹکڑے ہیں۔“ پھر امغیشیا کی فتح ہوئی جہاں سے اتنا مال غنیمت ملا کہ اس سے پہلے کبھی نہیں ملا تھا۔حضرت ابو بکر نے اس وقت فرمایا کہ اے قریش ! تمہارے شیر نے ایک شیر پرحملہ کر کے اسے مغلوب کر دیا اور عورتیں خالد جیسا بہادر پیدا نہیں کر سکتیں۔اس کے بعد عین التمر فتح ہوا، جنگ دومتہ الجندل ہوئی۔جنگ فراض ہوئی۔جہاں رومیوں اور ایرانیوں کی متحدہ فوج تھی۔ایک لاکھ آدمی اس میں مارے گئے تھے۔الغرض